Monday, November 4, 2024

اللہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کیا کریں------------Try to find Allah

0 Comments

 


‏ماں نے بارہ سال کے بیٹے کو سکول جانے کے لیے تیار کیا ناشتے کرانے  کے بعد اسکا لنچ اسکے بیگ میں ڈالا جو ایک جوس پراٹھا اور آملیٹ پہ مشتمل تھا۔ بچے نے بیگ اٹھایا اور ماں نے زمین پہ بیٹھ کر اسکو سینے سے لگا کر پیار کیا


اس نے ماں کے کان میں ہلکے سے کہا


" مما آج میں لیٹ آونگا "


" وہ کیوں میرے چندا"

ماں نے واری جاتے اسکے چہرے پہ بوسہ دیتے ہوئے  مسکرا کر پوچھا


" مما میں نے آج خدا کو ڈھونڈنا ھے اسلئے میں دیر سے آونگا "


" میرے جگر کے ٹوٹے خدا کو تم کیسے ڈھونڈو گے وہ تو نظر نہیں آتا ناں " 


ماں نے شفقت سے اپنے معصوم بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے  کہا لیکن بچے نے کوئی جواب نہیں دیا اور دوڑ کر باہر گیٹ کی طرف چلا گیا۔ اور اسے یوں بھاگتے ہوئے دیکھ کر ماں مسکرا دی۔


سکول سے واپسی کے راستہ پہ بچے نے ایک بینچ پہ ایک غریب بوڑھی اماں جی کو دیکھا جو پریشان بیٹھی ہوئی تھی۔ بھوک اور غربت اسکے چہرے پر عیاں تھی۔ بارہ سال کا بچہ اسکے پاس بینچ پہ بیٹھ گیا اور اپنا ناشتہ نکال لیا۔

اس بوڑھی مسکین اماں جی نے ترستی ہوئی نگاہوں سے روٹی کی طرف دیکھا اور اپنا منہ دوسری طرف کر کے بھوک چھپانے لگی۔


بارہ سال کے معصوم نونہال نے پراٹھے کو ہاتھ میں پکڑا اور کچھ سوچا پھر اس نے پراٹھا اور آملیٹ کو بوڑھی اماں جی کی طرف بڑھا دیا ۔


ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ ، بوڑھی اماں جی نے مسکرا کر وہ قبول کرلیا۔ اسکے بعد بارہ سال کے معصوم فرشتہ نما بچے نے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ہنستے مسکراتے ہوئے جوس کی بوتل بیگ سے برآمد کی جیسے آلہ دین کے چراغ سے جن برآمد ہوتا تھا۔


اس نے ننھے ہاتھوں سے پورا زور لگا کر جوس کا ڈھکن کھولا اور اسے اس عورت کی طرف بڑھا کر اسے مسکراتے ہوئے  دیکھا۔


بوڑھی عورت بھوکی بھی تھی اور پیاس کی ستائی ہوئی بھی اس نے ایک ہی سانس میں سارا جوس پی لیا۔ کھانا کھاتے بوڑھی اماں بچے کو دیکھتی اور بچہ بوڑھی کو۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے  رہے ۔


کھانا ختم کرنے کے بعد بچے نے اپنا بیگ اٹھایا اور گھر کی طرف چلتا بنا


گھر پہنچ کر دروازے پہ گھنٹی بجائی تو ماں نے مسکرا کر اسکو بانہوں میں بھر لیا ماں نے اسکے گال پہ پیار کیا اور پوچھا


" میرے لال کو آج خدا ملا کہ نہیں  "


" ہاں مما خدا ایک عورت ہے وہ بہت اچھی ہے اور جب وہ مسکراتی ہے تو اپ کی طرح لگتی ہے بلکہ خدا کی مسکراہٹ تو آپ سے بھی زیادہ پیاری ہے"


______


دوسرا سین 


بوڑھی اماں جی پراٹھا انڈہ کھا کر بینچ سے اٹھی اور اپنی راہ لی چلتے چلتے بوڑھی اماں کافی تھک گئی تھی تو وہ ایک جگہ بینچ پر بیٹھ گئیں جہاں پہلے سے ہی ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔

 

بوڑھی اماں کافی خوش تھی اور مسکرا رہی تھیں


" آپ کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی ہیں  " پہلے سے موجود عورت نے بوڑھی اماں سے پوچھا


" ہاں میں آج کافی خوش ہوں پتہ ہے  آج میں نے خدا کے ساتھ ملکر بہت اچھا لنچ کیا ہے۔ تمہیں پتہ ہے خدا دراصل ایک معصوم بچہ ہے بہت ہی پیارا اور چھوٹا سا۔ میری توقعات سے بھی چھوٹا بچہ اور اتنا مہربان "

______


تیسرا سین


قیامت کا منظر ہے


آقائے دو جہاں رحمت اللعامین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہیں اپنی امت کی شفاعت کے لیے۔


اسی دوران اللہ جل و شانہ ایک انسان کو بلائے گا اور  اس سے شکوہ کرے گا


" * میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا "

" میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی "

" میں حاجت مند تھا تم نےمیری حاجت پوری نہیں كي؟" *


وہ انسان کہے گا


"یا اللہ آپ کی عیادت یا بھوک یا حاجت میں کیسے پوری کرسکتا تھا آپ کو کہاں ڈھونڈتا آپ تو خود حاجت پوری کرنے والی ذات ہیں"


اللہ فرمائے گا 


" میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو اسکی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ بھوکا تھا تو اسکو کھانا کھلاتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ حاجت مند تھا تم نے اسکی حاجت پوری کی ہوتی تو تم مجھے اسکے پاس پاتے


تم نے مجھے کبھی ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی ؛میں تم سے  ناراض ہوں ۔


مزہ تو تب ہے کہ جب آپ خود مجبور ہوں اور کسی کی مدد کریں..!!

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔