Wednesday, September 14, 2022

غار حراء میں خدمت---14 ستمبر 2022

0 Comments


غار حراءمیں نوافل تحنث


مری جاں کو صحن حرم کہو 

مرے دل کو غار حراء کہو

 




غار حراء میں خدمت

اسماء تری سعادت

غار حراء میں خلوت

جبریل کی محبت

یہ کون معتکف ھیں 

آللہ رے یہ قسمت

تم نے امین دیکھا؟ روح الامین اسمیں؟

غار حراء میں ابتک دیتے ھیں اپنی قربت

وہ اک ھزار راتیں 

اسماء سے دل کی باتیں

غار حراء گواہ ھے

پائی تھی کیسی شفقت

یا جبرئیل تم نے

 کیا نوکری ھے ڈھونڈی

کس سے گلے ملے تھے؟ 

اتنی عظیم صحبت !

اے کوہ نور سن لے 

غار حراء کی گونجیں

اللہ ھو کے نغمے

کونین کی سماعت

آواز کیسی آئ؟

 اقراء کہا تھا کس نے؟

اک روشنی سی چمکی

ظاھر ھوئ عبارت

فاران کی چٹانیں 

جبرئیل کی کتابت

کس نے وحی سنی تھی 

کس نے وحی کو لکھا

 اےغار حراء میں سکتہ کس کس کو ھوگیا تھا؟

اللہ رے وہ لمحہ

 اللہ رے وہ عرصہ

کیسے گذر رھاتھا 

اتنی حسین قربت؟

اسماء کا وقت سحری

مٹی کا ایک برتن

لے کر پہاڑ چڑھنا 

 ستو گھلا ھوا تھا

چلو میں کر رھی تھیں مالک کی اپنے دعوت

پہلی وحی کا لرزہ 

کمبل تو  لا خدیجہ

اللہ نے عطا کیں 

قرآں کی پنج آیت

وقت تہجد آیا

اب لمحہء عبادت

نیچے تلک اتر کر 

اسماء کو دیدی رخصت

پھر جبرئیل نے لی پرواز کی اجازت

اللہ رے یہ محفل 

اللہ رے یہ خلوت

ھم کو بھی مل گئ ھے غار حراء کی برکت۔

شب بخیر

 المناسک مبارک

Saturday, September 10, 2022

Hazrat Khwaja Noor Muhammad Maharvi (Chishtian Sharif)

0 Comments

 




حضرت خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں شریف) کے عرس کی نسبت سے...
خواجہ نور محمد کا ذکر خیر! مع سندِ سلسلہ چشتیہ عرس 1 2 3 ذوالحجہ اپنی تاریخ جانیے قوموں کا وجود تاریخ سے ہوتا ہے۔
حضرت شاہ کلیم اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے چشتی سلسلہ کا احیاء کیا اور حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی (مرید نظام الدین اولیاء مرید بابا فرید الدین گنج شکر مرید بختیار کاکی مرید خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ) کے بعد سلسلہ چشتیہ کو مربوط کیا جو کہ حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی علیہ الرحمہ کے بعد حضرت گیسو دراز کے دور میں بھکرنے لگا تھا. انکے مرید و خلیفہ یعنی شاہ کلیم اللہ کے مرید و خلیفہ شاہ نظام الدین اورنگ آبادی علیہ الرحمہ نے اس سلسلہ کو آگے بڑھایا. نظام الدین صاحب کے بعد مولانا فخر جہاں نے احیاء دین کا کام کیا. مولانا فخر جہاں دہلوی علیہ الرحمہ وہ بزرگ ہستی ہیں جن کا مناظرہ شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ سے امام حسن     بصری اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سماع پر ہوا تھا. مناظرہ تین روز جاری رہا جس کے بعد شاہ ولی اللہ نے شاہ فخر کی رائے کو تسلیم کر لیا تھا.یہ وہ دور تھا کہ مولانا ایک بہت ہی بڑا سٹیٹس ہوا کرتا تھا اور یہ مقام خال خال کسی کو حاصل ہوتا تھا. دہلی شہر میں صرف مولانا فخر جہاں ہی کو مولانا کہا جاتا تھا. یہی سے انکے علمی مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے. ان ہی کے مرید و خلیفہ تھے حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ..
خواجہ نور محمد مہاروی 14 رمضان 1142ھ کو چوٹالہ میں پیدا ہوئے. سلسلہ نصب نوشیرواں عادل سے جا ملتا ہے.
ان کی والدہ ماجدہ کو شادی سے قبل ایک کامل نے ایک ولی کی ماں ہونے کی بشارت دی تھی. قرآن اپنے علاقہ میں حفظ کیا جہاں ایک بزرگ نے دیکھ کر بشارت دی کہ ایک وقت آئے گا اس بچے کے آگے بادشاہ سر رکھیں گے. اس وقت کِسے معلوم تھا کہ بہاولپور کا نواب بہاول خان ان کی آستانہ بوسی کرے گا. خواجہ نور محمد مہاروی نے مزید تعلیم لاہور اور دہلی سے حاصل کی. دہلی میں مولانا فخر جہاں سے علوم ظاہری باطنی کی تکمیل کی اور ان کے دست اقدس پر بیعت ہوئے. پھر اپنے مرشد کے ساتھ پاک پتن شریف کا سفر کیا. اسکے بعد مرشد سے خلافت ملی اور مہار شریف میں قیام کا حکم ملا.
    مولانا فخر کہا کرتے تھے کہ مکھن تو وہ پنجابی (خواجہ نور محمد) لے گیا باقی سنسار تو چھاچھ پیو.
مولانا فخر نے خواجہ مہاروی کو ایک نصیحت کی کہ تمھارے پاس ایک کوہستانی باز آئے گا اسکی نگہداشت کرنا.
مہار شریف آمد کے بعد یہاں انہوں نے ایک خانقاہ قائم کی اور خلق خدا کی تربیت کرنے لگے. حضرت کی شہرت ہوئی تو وہاں آباد مہار قوم کے سرداروں کو اپنی سرداری جاتی نظر آئے جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت کو تنگ کرنا شروع کیا... اللہ کی طرف سے ہوا کچھ یوں کہ مہار قوم میں آپس میں خانہ جنگی ہوئی اور وہ اس علاقے میں مٹ گئی. حضرت کا معمول یہ تھا کہ جمعہ کی نماز بابا فرید الدین گنج شکر کے آستانہ پر پڑھا کرتے تھے. پھر جب علیل ہوئے اور ضعف عمری بڑھا توچشتیاں میں ادا کرنے لگے جہاں بابا فرید کے پوتے مدفون ہیں.
نواب آف بہاولپور ان کا مرید تھا. حضرت کا وصال 1799ء 1205ھ میں ہوا اور مزار شریف چشتیاں میں واقع ہے.
فیض چشتیہ کوہستانی باز یعنی حضرت پیر پٹھان شاہ سلیمان تونسوی نے خواجہ مہاروی سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ خلافت سے نوازے گئے.شاہ سلیمان سے حضرت شمس الدین سیالوی نے اکتساب فیض کیا جن کے ہونہار مرید فاتح قادیانیت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ہوئے یہ سلسلہ آگے بڑھا تو علامہ یار محمد بندیالوی پھر علامہ عطاء محمد بندیالوی استاذ العلماء ہوئیے اس سلسلہ کو یوں سمجھ لیں.
خواجہ نور محمد
شاہ سلیمان تونسوی
شمس الدین سیالوی
پیر مہر علی شاہ
دوسری جانب خواجہ مہاروی کے ایک خلیفہ شاہ جمال ملتانی تھے جن سے ملتان میں سلسلہ چشتیہ کا احیاء ہوا. ایک قصہ سنیے!
ایک شخص تھا عبدالعزیز اسکی شادی ہو گئی ایک عارفہ کے ساتھ. تھا وہ اَن پڑھ... لیکن تھا باادب جب معلوم پڑا زوجہ عارفہ ہے تو بستر سے اتر آئے اور گویا ہوئے میں جب تیرے قابل ہو جاؤں گا تب تیرے پاس آؤں گا. اب نکلے اور سوچا اگر تعلیم حاصل کرنے لگا تو مجھے بہت وقت لگ جائے گا کسی عارف کی بارگاہ میں چلتا ہوں. اس وقت شاہ جمال ملتانی خلیفہ خواجہ نور محمد مہاروی کا بہت چرچا تھا. ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے. شاہ جمال ملتانی کے پاس ہر ہفتے خضر علیہ السلام آیا کرتے تھے اور ایک شخص کو ولایت پر سرفراز کیا جاتا تھا. اسی طرح ایک روز عبدالعزیز پرہاروی کو ولایت سے سرفراز کردیا گیا اور ایک چٹا اَن پڑھ ایسا عالم بن کر نکلا کہ اہلسنت کے عقائد کی معروف کتاب عقائد نسفی کی شرح النبراس کے نام سے لکھی یہ کتاب اتنی بہترین ہے کہ عرب و عجب میں اسکا چرچا اب بھی ہے اور جامعہ ازہر مصر کے نصاب میں شامل ہے. موجودہ پیر ثاقب شامی بھی شاہ جمال ملتانی کے سلسلہ سے ہیں.
تیسری جانب خواجہ مہاروی کے سلسلہ سے کوٹ مٹھن منور ہوا اور خواجہ غلام فرید جیسی ہستی ہوئی......
خواجہ مہاروی سے سلسلہ چشتیہ کو بابا فرید کے بعد پنجاب میں قبول عام ملا اور بہت سے خانقاہیں بنی
جیسے
تونسہ شریف
احمد پور
چاچڑاں مکہڈ
جلال پور
کوٹ مٹھن
سیال شریف
بھیرہ شریف
گولڑہ شریف وغیرہ