حضرت حافظ خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی
در دست نہ تیر است نہ بر دوش کمان است
ایں سادگی ہست کہ بسمل دو جہان است
کے مصداق خلق ِ خدا کےقلوب پر حکمرانی کرنے والے ان بندگانِ حق کے پاس ایمان کی دولت تھی۔ اسلام کے لازوال پیغام کی قوت تھی اور اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی طاقت تھی جس سے انہوں نے کفر و جہالت کی تاریکیوں میں چراغِ حق روشن کیا اور بھٹکتی انسانیت کو دین ِ مبین کی راہ دکھائی۔ان کی ہدایات پڑھ کر یا ان کی اختیارِ صحبت سے ان کی روحانی شان و شوکت ‘ عظمت و حشمت اور علم و معرفت میں درجہءکمال کا اندازہ
ہوتا ہے۔
ایسی برگزیدہ ہستیوں کے احوال کا مطالعہ قلب و نظر کی رہبری کا وسیلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا سے رخصت ہوجانے والے اولیائے کرام کی زندگی کامطالعہ ان کی ظاہری صحبت کی طرح فیضیاب کرتا ہے جس کے بارے میں حضرت مولانا روم ؒ ارشاد فرماتے ہیں۔
؎ یک زمانہ صحبتِ با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
آئیے اس مینارئہ نور کی روشنی سے فیضیاب ہوں۔
مجھے جن حالات و زندگی جمع کرنے کا موقع ملا وہ میرے مالک وآقاو مرشد حضور امین ملت امین المشائخ،احسان و تصوف کے امین ، جملہ مشائخ و اولیاء کے وارث،سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ کے مجدد، نظام المدارس ِصو فیاء اور نظامی اسکول آف قرآن کے بانی، سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ کے سات سو سالہ علمی وروحانی مشاغل کے داعی ،میدان خطابت کے شہسوار، متعدد کتب و جرائدورسائل کے مدیر ومؤلف ،
یادگار سلف، افتخارِ ملت، پیر طریقت رہبر شریعت ،جمال چشت، راہ بہشت، ماہ عصر، مہر فقر، مفسر قرآن، ربانی برھان، آفتاب بلاغت، عالم باعمل، ولایت کا ناز، عطائے محبوبِ الٰہی، نشانیٔ محبوبِ الٰہی ، صاحب عشق و ولا، حامل حرف دعا، مہ فصاحت، چشتیوں کا ناز، محقق اور سلسلہ چشتیہ نظامیہ الجامعہ کے عظیم المرتبت شیخ طریقت ،امین ملت ، امین الاسلام،امین القرآن، امین المشائخ ،حضرت حافظ خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی کی
ذاتِ ستودہ صفات ہے۔
جو سچے عاشق رسولﷺ، سچے محب وطن، نہایت فعال، نہایت بیدار مغز، وسیع النظر، معاملہ فہم، فراست و بصیرت، حکمت و تدبر سے کام لینے والے، جرأت و ہمت اور شجاعت کی خوبیوں سے آراستہ، عظیم مبلغ اسلام ہیں۔ آپ کی راست بازی اور حق گوئی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسی ذات ستودہ صفات کے حالات و واقعات کو قلمبند کرنا مجھ جیسے انسان کے لئے آسان نہیں مگر کچھ ایسے دوستوں کی
استدعاہے کہ جن کو ٹالنا میرے لئے مشکل ہے۔
ژولادت باسعادت:جمعہ 17 رمضان ۱۳۸۵ھ بروز جمعہ کو پاکستان کے شہر کراچی کے ایک علاقہ ناظم آباد بڑامیدان
(اپوا ہسپتال )میں تولد ہوئے۔
ژنسب:آپ کے والد ماجد کا نام حضرت شمس الحق نظامی ؒ (آلِ بابا فرید شکر گنج ؒ )اور آپ کی والدہ ماجدہ(آلِ میراں زنجانی ؒ ) کا نام سیدہ ادریسہ زنجانی ؒ (نانی بزرگ)ہے ۔16ویں پشت میں آپ کا سلسلۂ نسب حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ سے جا ملتا ہے جو کہ فاروقی ہیں۔
اپنے وقت کے جید عالم، نبیرۂ شاہ نیاز بے نیاز ؒ ، حضرت شاہ انوارالحق قادری چشتی علیہ الرحمہ (خانقاہِ نیازیہ بریلی شریف)آپ کے دادا ہیں ،اور آپ کی دادی بی بی ھزیرہ خاتون ؒ ہیں۔جبکہ نانا کا اسم گرامی سید ابوالحسن زنجانی ؒ ہے۔حضرت شاہ انوارالحق قادری چشتی ؒ ایک
متبحر عالم دین تھے جن کی تبحر علمی کا اندازہ ان کی تصانیف کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔
ژالقابات: امین الاسلام ، امین القرآن،امین الاولیاء ،امین المشائخ ، امین ملت، حافظ ملت، نشانیٔ محبوب ِ الٰہی ؒ ہیں۔
ژعصری تعلیم: ابتدائی تعلیم ناظم آباد نمبر2گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکو ل ناظم آباد،جبکہ اعلیٰ ثانوی تعلیم دہلی کالج میںحاصل
کی۔میرین انجینئرنگ (عالمی بحری یونیورسٹی) ﴿صدر پاکستان سے طلائی تمغہ یافتہ۔اس اعزاز کی پیشن گوئی حضرت شمسؔ ؒ نے دس سال قبل کردی تھی﴾،مکینکل انجینئرنگ (انجینئرنگ کونسل انگلینڈ)،ایم اے اسلامیات،بی اے اکنامکس،ڈپلومہ پبلک ریلیشن اسٹریٹجیNIPA+PIM۔
درس نظامی، ایڈیٹر، پبلیشر، پریس کلب ایوارڈیافتہ۔
٭تصانیف:پی این ایس سی ہاؤس جنرل اور پبلک میگزین،نظام رنگ، انوارالصوفیہ،محمد لورزجنرل، ویگا، وائس آف میکوبس، خبرنامہ نظام،
طلوع شمس،معمولات چشت، تحفہ نظامی، شجرۂ نظامیہ سیر فخر ملت،تراشیدم
PNSC house Journal, and Public Mag. Nizam Rung, Anwar us Sofia, Muhammad Lovers Journal, Vega, Voice of Macobs,Newspaper NIZAM,Tulu e Shams, Mamolat e Chisht, Tuhfa e Nizami, Shajara e Nizamia, Seerat Fakhr e Millat, Trashidam.
٭بیعت و ارادت:شمس الملت پیر سید نورحسین شاہ جماعتی ؒ (سجادہ نشین پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری ؒ )
٭خلافت و اجازت:از مدینہ شریف،اجمیر شریف،پاکپتن شریف، دھلی شریف۔
۱۔چشتیہ۔۲۔قادریہ۔۳۔سہروردیہ۔۴۔نقشبندیہ۔۵۔نیازیہ۔۶۔جماعتیہ۔۷۔اویسیہ۔۸۔رضویہ۔۹۔قلندریہ۔۱۰۔نظامیہ۔۱۱۔فخریہ۔
۱۲۔فردوسیہ۔۱۳۔صابریہ۔۱۴۔شازلیہ۔۱۵۔مخدوم جہانیہ۔۱۶۔مجددیہ۔۱۷۔تاجیہ
٭درستار بندی علماو مشائخ:شمس المشائخ حضرت حافظ خواجہ سید اسلام الدین نظامی بخاری ؒ ،شفیق الملّت حضرت خواجہ شفیق احمد فاروقی ؒ ، پیر افضل حسین شاہ جماعتی ؒ ،حضرت شاہ انصار حسین الٰہ آبادی ؒ ،حضرت یسین شاہ تاجی ؒ ،حضرت حنیف شاہ نقشبندی
قلندری،حضرت کمال میاں سلطانی،حضرت رضا المصطفیٰ عظمی ؒ ،حضرت حاجی حنیف طیب صاحب،حضرت شاہ تراب الحق قادری ؒ ۔
٭یومِ جانشینی:7 صفر المظر
٭خدمات:بانی نظامی اکیڈمی، بانی نظامی اسکاوٹس،بانی ادارۃ القرآن نظامیہ،بانی نظامی فاونڈیشن، بانی نظام المدارس صوفیا،بانی نظامی
اسکول آف قرآن ،
٭اولاد امجاد:قنطرہ عائشہ نظامی،محبّہ فاطمہ نظامی،شاہ محی الدین نظام نظامی۔
٭اعلانِ جانشینی:7 صفر المظر
۱۴۱۷ ھ بمطابق 1997ء کا سال آمدشمس المشائخ حضرت حافظ خواجہ سید اسلام الدین بخاری نظامی ؒ (امام و خطیب ومرکزی سجادہ نشین درگاہِ خاص خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ ۔دھلی شریف) کا وہ تاریخی سال مبارک ہے جس میں مرشدِ کامل حضرت حافظ خواجہ محمد امین نظامی
مدظلہٗ عالی کو خلافتِ عظمیٰ کی بے مثال ذمہ داری(اعلان ِ جانشینی و سند ِ خلافت ) عطاء فرمائی۔
بروز بدھ۱۱ ذیقعد ۱۴۱۸ ہجری10مارچ1998 ء۔
بعد عشاء، بمقام:خیابانِ نظامی۔5A 9/10 ناظم آباد
دستار بندی و جانشینی کے دو سال کے بعدشمس المشائخ
حضرت حافظ خواجہ سید اسلام الدین بخاری نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نے یہ اعلان بھی کرا دیا کہ یہاں پاکستان میں اب یہ
امین میاں ہی آپ کے مرشد ہیں۔
ہم نے ان کو پاکستان میں اپنا جانشین بنایا ہے جس نے ان کا اَدب کیا انہوں نے ہمارا اَدب کیا اور جس نے ان کی نافرمانی کی
اُنہوں نے ہماری نافرمانی کی۔
مرشدی مالک امین الحق امین سلسلہ
ہردعا میں ان کی آمین رَبّنا کا ساتھ ہو
نوٹ:برائے کرم ان معلومات کو حتمی نہ سمجھا جائے ابھی مزید تحقیق باقی ہیں۔(طالب ِ اصلاح:خواجہ طہٰ عامر نظامی۔نائب ِ امین ِ ملت)


.jpeg)
.jpeg)


.jpeg)


.jpeg)
.jpeg)


.jpeg)

.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)

.jpeg)


.jpeg)




.jpeg)

.jpeg)

.jpeg)

