[09:42, 6/26/2024] +92 349 2357445: امتحان
علم تحقیق
،4جواب
مدارس میں کلیسائی تبلیغ کی
طرح ہوتی ہے مدارس میں دینی تعلیم مخصوص علم تکمیل کی
جارہی ہے کسی مخصوص
فرقے یا مسالک ترجمانی کر رہے ہیں یہ دین کی خدمت نہیں ہے
آپنے مسالک کی خدمت کر رہے ہیں
فیروزہ امینی
[00:32, 6/26/2024] Qaiser Un nisa Nizami: امتحان علم الرویاء
جواب : 1
علم الرویاء ایک خاص علم ہے جس کو ضرور حاصل کرنا چاہیئے
جواب : 2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا متقی پرہیز گار ہو
جھوٹا نہ ہو اور لوگوں کے مزاج سے آشنا ہو
اور مقدار عقل کے مطابق گفتگو کرے -
جواب : 3
سورۃ یوسف
جواب : 4
حضرت یوسف علیہ السلام ابن سیرین رحمۃ
طالب اصلاح
قیصر انساء امینی
[00:42, 6/26/2024] Nayyar.Nizami🫡🫡: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم الرویاء
جواب-1( علم رویا ایک خاص علم ہے جو ضرور حاصل کرنا چاہیے)
جواب-2( نبی کریم ص نے فرمایا متقی و پرہیزگار ہو،جھوٹا نہ ہو اور لوگوں کے مزاج سے واقف بھی ہو عقل مند ہو )
جواب-3 ( سورہ یو سف)
جواب-4(ہمارے پیارے نبی ص ، حضرت یوسف علیہ السلام اور ابن سیرین )
نیرہ امینی
[02:27, 6/26/2024] Nayyar.Nizami🫡🫡: سلام و دست بوسی قبول ہو بابا جانی
اللھم صل علی قربت محمد
نیرہ امینی
[03:12, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Afshan kanwal Amini
[03:12, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Afshan kanwal Amini
[03:12, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Afshan kanwal Amini
[03:12, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Afshan kanwal Amini
[03:13, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Sqb Mara peyara Malik mara phon ma masla ho gaya ha AP ki panwari kanwal Amini
[03:32, 6/26/2024] Kumail Nizami: سلام و قدم بوسی مرشد کریم و مرشدہ جی۔
کمیل امینی۔
[04:30, 6/26/2024] Heera Nizami HRC: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم تغذیہ
ممتحنہ حافظ سحرش مرشدہ
جواب 1: تغذیہ غذائی علم و ھنر کو کہتے ھیں۔
کھانے کی دعاء:
بسم اللہ وعلی برکة اللہ
پینے کی دعاء :
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ
جواب 2- علم تغذیہ میں حلال و حرام اسلئے ہےکیوں کہ ہر غذا کی تاثیر ہوتی ہے اور اللہ نے پاکیزہ غذاؤں کو حلال،اور نا پاک غذاؤں کو حرام فرمایا۔
ارشاد باری تعالی ہے کہ
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ ۖوَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
ترجمعہ:
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راہ پر مت چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
اس آیت مبارکہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ راہ حق پر چلنے اور معرفت الہی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حلال اور پاک غذا استعمال کی جائے۔
اللہ نے ہم پر حلال و حرام کی جو حدود مقرر کی ہیں ان پر عمل کرنے میں ہمارا ہی فائدہ ہے ۔ جب انسان کھانے پینے کی اشیاء میں شریعت کے احکامات سے ہٹتا ہے تو بہت سی خطرناک بیماریوں اور پیچیدہ مسائل کا شکار ہو جاتا ہے ۔
حرام غذا سے جو جسم پرورش پاتا ہے، وہ بہت سی ظاہری و باطنی، قلبی و روحانی ، اور اخلاقی برائیوں اور بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
جبکہ حلال غذا کھانے سے قلب میں اللہ و رسول اللہ ص کی محبت و اطاعت پیدا ہوتی ہے اور نیکی کی طرف رغبت بڑھتی ہے اور انسان بہت سی ظاہری و باطنی، قلبی و روحانی، اخلاقی و نفسانی برائیوں سے محفوظ رہتا ہے ۔
جواب 3-علم تغذیہ ضرورت دین ھے
آیت مبارکہ:
وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾ اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾
ترجمہ: اور اللہ تعالٰی کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو ۔
ہم توتمہیں صرف اللہ تعالٰی کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری ۔
حدیث نبوی ص:
ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم کھانا کھلاؤ ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی ، الغرض سب کو سلام کرو ۔
جواب 4-علم تغذیہ میں متوازن کھانوں کا ہفتہ وار شیڈول بنانے کیلئے درج زیل غذاؤں کو اپنی غذائی ضرورت کے مطابق ضرور شامل کریں:
1۔ کاربوہائیڈیٹ یعنی اناج کی مختلف اقسام جن میں گندم ،چاول ،جو ،مکئی اور باجرہ وغیر شامل ہیں۔
2۔ پروٹین یعنی گوشت، انڈے،مچھلی وغیرہ۔
3۔ ڈیری کی مصنوعات مثلادودھ ،دہی ، پنیر وغیرہ۔
4۔ روغنیات یعنی گھی،تیل و دیگر
5۔ تازہ پھل اور سبزیاں۔
ان پانچ قسم کی غذاؤں کے استعمال سے جسم کو تمام ضروری غذائی اجزاء حاصل ہوں گے۔۔
طالب اصلاح حرا امینی
[05:34, 6/26/2024] +92 349 2357445: سلام علیکم مرشدِ کریم مرشدہ جی دست بوسی فجری
دعاؤں کی طلبگار
فیروزہ امینی
[05:35, 6/26/2024] Atif Bukhari: A.Salam Malik O Mola Qadam Bosi wa Dast Bosi Qabul apki Dua or Tawajo ka talib
Atif Amini
[06:03, 6/26/2024] +92 315 2020096: Salaam mere Malik o aqa
ubaidullah Hashim amini
[06:06, 6/26/2024] Adnan Zafar Nizami: اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ یا مرشدی یآ مرشدہ جی قدم بوس حضور
عدنان ظفر قادری قلندری امینی
[06:17, 6/26/2024] Bhabi AFSHEEN: Salamy fajar baba jan
Es Dua sy k Allah pak aap khob khob sehat aata farmay or mursheda g or Aaly murshed ko hmesha khosh rkhy ameen
Afshi Amini
[06:37, 6/26/2024] Saliha Zeshan Nizami: Salam o Pyar Baba Jani. ♥️💐
Allah ap ko sehat tandrusti shifa e Kamila k sath darazi e Umar ata farmaey, hasdeen k Shar sy mehfoz rakhy Aameen summa Aameen 🤲🏻🤲🏻🤲🏻
Talib e dua o Shafqat
Commandant
[07:04, 6/26/2024] Nayyar.Nizami🫡🫡: سلام و دست بوسی قبول ہو بابا جانی و مرشدہ جی 💞💞💞
الله پاک آپ کو صحت وشفا ء عطا فرمائے اور آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین🤲🏻
نیرہ امینی
[07:41, 6/26/2024] M Amin Hafez Nizami: سلام و قدمبوسی مالک،
امین ص ن ا
[08:26, 6/26/2024] Naeem Farooq Nizami ADN: سلام یا مُرشد طالب دعا نعیم
[08:26, 6/26/2024] Naeem Farooq Nizami ADN: نعیم
[09:54, 6/26/2024] +92 322 2646235: اسلام وعلیکم پیارے آقا مرشد کریم اورمرشدہ جی۔ رخسانہ امینی
[10:07, 6/26/2024] +92 313 8468698: اسلام و علیکم بابا جانی
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت تندور ستی عطافرماےء اور آپ کا سایا ہمارے سروپرکایم ودایم رھکےامین 💓🌹
اسماء امینی دعا کی طالب
[10:12, 6/26/2024] +92 321 2174812: Salam e shifa 🌺🌺 piyare malik o aaqa🌺🌺 dastbosi qabool farmaen
Talib e dua Erum Naveed Amini
[10:12, 6/26/2024] +92 321 2174812: Amini
[10:41, 6/26/2024] Khawer PMA26E: حضرت سلام و قدم بوسی
اللہ تعالٰی آپ کو صحت کاملہ و عافیت دائمی کے ساتھ ہمیشہ تازہ دم رکھے۔
آمین ثم آمین
[10:43, 6/26/2024] Ra Raiyan Nizami: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم الرویاء
سوال 1-
کیا علم الرویاء ضروریات ء دین میں سے ھے؟یعنی مفتی کو معبر بھی ھونا چاھیئے ؟
جواب:
جی ہاں علم الرویاء ضروریاتِ دین میں سے ھے. جی ہاں مفتی کو معبر بھی ہونا چاہیے مفتی کا علم رویاء سے واقف ہونا ضروری ھے.
سوال 2-
نصاب ء رسول اللہ ص میں معبر کی چار کونسی صلاحیتوں کو معیار قرار دیا گیا ھے؟
جواب :
نصابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں معبر کی درج ذیل چار صلاحیتوں کو معیار قرار دیا گیا ھے.
1.مزاج آشنا ہو، 2.شریعت آشنا ہو، 3.طب سے آشنا ہو، 4.علمِ رویاء سے واقف ہونا ۔۔
سوال 3-
قرآن میں علم الرویاء کن۔سورتوں سے اخذ کیا جاسکتا ھے؟
جواب:
قرآن پاک میں علم الرویاء درج ذیل سورتوں سے اخذ کیا جا سکتا ھے.
1.سورہ الصفٰت
2.سورہ یوسف
3۔سورہ مریم۔
سوال 4-
انبیاء اور اولیاء میں سے کوئی تین ماھرین ء علم الرویاء بتلائیے
جواب:…
[10:52, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 1
کا جواب
نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم الرویاء
سوال 1-
کیا علم الرویاء ضروریات ء دین میں سے ھے؟یعنی مفتی کو معبر بھی ھونا چاھیئے ؟
(تعبیر الرؤیا)
علم تعبیر کا موجد
ہر چیز کا موجد درحقیقت حق تعالیٰ ہے لیکن عرف عام میں ہر علم کا موجد اس شخص کو کہتے ہیں جس نے سب سے پہلے اس علم کو دنیا میں رواج دیا ہو۔ علم تعبیر کے موجد اور واضع حضرت یوسفؑ ہیں۔ جن کو سب سے پہلے یہ علم خدا تعالی کی طرف سے عطا ہوا۔ انہوں نے اس کو دنیا میں مروج کیاارشاد باری کا مفہوم: ’’اے یوسف! اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ بنا لے گا اور مجھے علم تعبیر خواب عطا فرمائے گا۔‘‘ (سورۃ یوسف
امام ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ خواب کی تعبیر بتانے والے شخص کے لیے عالم دین ہونے کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے طور طریقوں، اُن کی خصائل و عادات اور اُن کے احوال کو خوب اچھی طرح جاننے والا ہو۔ تعبیر دینے والا شخص اﷲ تعالیٰ سے یہ توفیق مانگے کہ وہ اُس کی زبان پر اچھی اور ثواب کی بات جاری کر ے اور وہ گناہوں سے بچتا رہے اور حرام لقمہ کھانے اور بیہودہ باتیں کہنے اور سننے سے دور رہے تاکہ اس کا شمار اُن علماء میں ہونے لگے جنہیں انبیاء کا وارث کہا گیا ہے (تعبیر الرؤیا)
سخاوت علی نظامی امینی
[10:57, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 2 کا جواب
مفتی متقی پرہیزگار
دیانت دار اور قران شریف پڑھنے میں مہارت ہو اسی طرح سے ہر علم تعلیم تربیت ہو ہر شعبہ جات کو سمجھتا ہو
سخاوت علی نظامی امینی
[11:02, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 3 کا جواب
سورہ یوسف
سورہ ابراہیم سورہ بقرہ
سورہ ال عمران
سخاوت علی نظامی امینی
[11:05, 6/26/2024] Rubina Naveen Nizami QRC: Elem rohoha Ruby q Amini
[11:07, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 4 کا جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ابراہیم علیہ السلام
یوسف علیہ السلام
اللہ رب العزت نے جس طرح انبیاء کرام صلوۃ والسلام غیب کا
علم دیا
اسی طرح سے
اولیاء کرام کو بھی اللہ تعالی نے غیب کے علم سے نوازا ہے
سخاوت علی نظامی امینی
[11:13, 6/26/2024] Naeem Farooq Nizami ADN: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم تحقیق
ممتحنہ حافظ سحرش نظامی (مرشدہ) سلام و قدم بوس سرکار اور مُرشدہ طالب اصلاح نعیم۔
سوال 1-
علم تحقیق کی بنیاد کس نے رکھی اور کیوں رکھی؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب تلاش الہی کیا سورج کو کہا کہ یہ میرا رب ہے پھر کہا نہیں ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہوتا پھر ستاروں کو کہا کہ یہ میرا رب ہے پھر کہا نہیں میں ڈوبنے والے میرے رب نہیں ہوتا ۔
سوال 2-
علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار کہاں سے آیا؟۔ جواب گوگل بابا
سوال 3-
مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار ومقاصد؟ جواب نظام المدارس صوفیاء جس کے بانی مُرشد برحق حضرت حافظ خواجہ امین الحق نظامی مد ظلہ کی سر پرستی میں تحقیق کام کا کام بہت احسن طریقے سے انجام دیا جارہا ہے اس کا مقصد لوگوں کو دین کی بھلا ی پہنچانا ہے
سوال 4-
مدارس کا معیار تحقیق کلیسائی ھے اس مشابھت کی مثالیں دیجئے جواب اکثر و بیشتر یہی دیکھا گیا ہے رٹے رٹائے فتویٰ کو کاپی کر کے جاری کر دیا جاتا ہے اور اس پہ مزید چیک یاصلاح نہیں لی جاتی طالب اصلاح نعیم
[11:17, 6/26/2024] Naeem Farooq Nizami ADN: دیر سے جواب کی معزرت خواہ ہوں نعیم
[11:17, 6/26/2024] Naeem Farooq Nizami ADN: نعیم
[11:44, 6/26/2024] Rubina Naveen Nizami QRC: Elem tehqeq Ruby q Amini
[11:45, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 1 کا جواب
علم الجرات
رسول اللہ صل وسلم کے زمانے سے ہے
جب کوئی زخمی ہو جاتا تھا
اور اگر زخم گھیرا ہوتا تھا
تو
طب نبوی ﷺ میں زخموں کا طریقہ علاج
زخموں کا علاج ان زخموں پر چٹا ئی کا ایک ٹکڑا لے کر جلا دیا، جب راکھ ہو گیا تو آپ نے زخموں پر انہیں چپکا دیا، جس سے خون بند ہوگیا“،
گون کی بنی ہوئی چٹائی راکھ سے خون بڑی عمدگی سے بند ہو جاتا ہے، اس لیے کہ اس میں خشک کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس کے علاوہ اس سے زخموں میں چھبن بھی نہیں ہوتیی کیونکہ جو دوائیں خشک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےں، اگر اس میں خلش کا انداز ہوتو اس سے خون میں جوش آجاتا ہے اور اس خلش سے خون کی ریزش بڑھ جاتی ہے، اور اس راکھ کا تو اس درجہ کرشمہ دیکھنے میں آیا کہ صرف اس راکھ کو یا اسے سرکے میں ملا کر نکسیر کے مریضوں کی ناک میں پھونک دیں تو رعاف بند ہو جاتا ہے۔ ابن سینا نے قانون میں لکھا ہے کہ گون کی بنی چٹان سیلان دم میں نافع ہے اسے ردک دیتی ہے، اگر تازہ زخموں پر جن سے خون بہہ رہا ہو چھڑک دیں تو اسے مندمل دیتی ہے، مصری کاغذ قدیم زمانے میں گون ہی سے بنایا جاتا تھا، اس کا مزاج خشک و سرد ہے، اس کی راکھ کلتہ الضم میں مفید ہے، خون کے تھوک کو بند کردیتی اور گندے زخموں کو بڑھنے سے روکتی ہے۔
جلے ہوئے زخموں کا شہد سے علاج کیا ہے
سخاوت علی نظامی امینی
[12:02, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 2 کا جواب
رسول اللہ کے زمانے میں
اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا طب کوئی نہیں تھا
اپ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم علم الجرات مہارت رکھتے تھے
مولا علی علیہ السلام
بھی علم جرات میں مہارت رکھے تھے ۔
سخاوت علی نظامی امینی
[12:02, 6/26/2024] +92 321 8211756: امینی
[12:09, 6/26/2024] +92 316 6198897: اسلام علیکم مرشدد کریم اور مرشدہ جی قدم بو سی قبول فرمائیں۔
جواب 1.
رسول ص کے زمانے سے ہے جب کوئ زخمی ہو جاتا تھا اور زخم گھیرا ہوتا تھا تو
اس لے کہ اس میں خشک کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس کے علاوہ اس سے زخموں میں چھبن بھی نہیں ہوتی کیونکہ دوائیں خشک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
طلبگار
خواجہ دانش ولی امینی ۔
[12:11, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 4 کا جواب
واضح رہے کہ بنیادی اور ضروری علمِ دین (یعنی جس وقت جو حکمِ الٰہی متوجہ ہو اس کا علم) حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے، اسی طرح اس علم کے مقتضیٰ پر عمل کرنا بھی لازم ہے، اور بوقتِ ضرورت موقع و محل دیکھ کر اپنی استطاعت کے مطابق خیر و بھلائی کی تلقین کرنا اور برائیوں سے دوسروں کو روکنا اور اسلامی تربیت اور اصلاح کی کوشش کرتے رہنا بھی ضروری ہے، لیکن ملحوظ رہے کہ عورت کے لئے علم دین کی اشاعت اور پہنچانے کے لئے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ باقاعدہ درس گاہ میں بیٹھ کر شاگردوں کو پڑھائے، اور مدرسہ میں معلمہ کی خدمات انجام دے،یا اپنے گھر سے نکل کر لوگوں کے پاس اپنا علم پہنچانے جائے اور دین کی تبلیغ کرے اور نہ عورت سے اس کے بارے قیامت میں باز پرس ہوگی،ہاں البتہ ایک عورت کے پاس دینی تعلیم و تربیت کے لیے بہت وسیع میدان موجود ہے، ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مدرسہ ہوتی ہے، اپنے بچوں کی صحیح تربیت، ان کے کردار، اخلاق، اطوار کی اصلاح، ان کو دینِ اسلام سے متعلق بنیادی آگاہی،اس کے ساتھ ازدواجی زندگی میں شریعت پر عمل، شوہر کی فرماں برداری اور خدمت کو شعار بنالے، اپنی سہیلیوں، ارد گرد کی خواتین اور پڑوس کی بچیوں کی اسلامی تربیت اور تعلیم کی کوشش کرتی رہے، اگر قریب میں اپنے ہم وطن اور ہم زبان لوگ آباد ہیں تو اپنے گھر میں ہی چھوٹے بچوں اور بچیوں کے لیے قرآنِ پاک پڑھانے اور بنیادی دینی مسائل کی تعلیم اور تربیت کا نظم بنالے یہ عورت کے لیے اپنا علم دوسروں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ، ہے
سخاوت علی نظامی امینی
[12:13, 6/26/2024] +92 316 6198897: جواب 2۔
رسول اللہ ص کے زمانے میں آپ ص سے بڑا طب کوئ نیں تھا
آپ ص الجرات مہارت رکھتے تھے۔
طلبگار
خواجہ دانش ولی امینی۔
[12:17, 6/26/2024] +92 316 6198897: جواب 3.
سورہ سجدہ
سورہ یونس
طلبگار
خواجہ دانش ولی امینی ۔
[12:26, 6/26/2024] +92 316 6198897: جواب 4.واضح رہے کہ بینادی اور ضروری علم دین (یعنی جس وقت جو حکم الی متوجہ ہو اس کا علم )حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔علم حاصل کرنا ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مدرسہ ہوتی ہے اپنے بچوں کی صیح سے تربیت کر سکے۔
طلبگار
خواجہ دانش ولی امینی ۔
[12:36, 6/26/2024] +92 321 8211756: دیر سے جواب کی معزرت خواہ ہوں ہیٹ اسٹروک،
میں تھا ابھی تھوڑی طبیعت بہتر ہوئی ہے
سخاوت علی نظامی امینی
[12:38, 6/26/2024] +92 321 8211756: سوال نمبر 3 کا جواب
سورہ سجدہ
سورہ بنی اسرائیل
سورہ الانعام
سورہ یونس
سخاوت علی نظامی امینی
[12:51, 6/26/2024] Abid Zaidi Nizami: Dour e Risalat s.a.w mai Hazrat Ibne Kalaba bhi thay jo ilm e jarahat mai Mahir thay
[12:53, 6/26/2024] +92 349 0214537: Talib islah Rida umair amini
[12:55, 6/26/2024] Abid Zaidi Nizami: Khawateen mai Hzt Rufaida Al Aslamiah
Pehli Surgeon thien
[12:55, 6/26/2024] Abid Zaidi Nizami: thien
[13:45, 6/26/2024] +92 349 2357445: 25_6_2024
امتحان علم الجراحت
1جواب
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے
مفتی کے لئے بھی زخمیوں کی دیکھ بھال اور کونسی دعائیں
استعمال ہوتی ہیں یہ جاننا ضروری ہے مفتی کےپاس لوگ
فتویٰ لینےاتے ہیں ان کو ہرشے
پر عبور حاصل رکھنا چاہیے
2جواب
آ پ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ سے بڑے طب
جراح میں بھت مہارت کسی کو بھی حاصل نہ تھی مولا ولی کرم وجہ علیہ بھی
علم جراح کےماہر تھے
3جواب
سورہ سجدہ علیہ
سورہ یو نس علیہ
4جواب
علم جراح کا علم حاصل کر نا
ہرمسلمان عورت اور مرد پر
ضروری ہے
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے د ور
جب جنگیں ہوا کرتی تھیں
حضرت عائشہ صدیقہ رض
زخمیوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں
فیروزہ امینی
[13:45, 6/26/2024] +92 349 2357445: امینی
[14:24, 6/26/2024] Umm e Nizam: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم تحقیق
ممتحنہ حافظ سحرش نظامی (مرشدہ)
10مارکس فی سوال
مھلت کل صبح 10تک
سوال 1-
علم تحقیق کی بنیاد کس نے رکھی اور کیوں رکھی؟
جواب 1۔علم تحقیق کی بنیاد حضرت آ دم علیہ السلام نے رکھی جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا تو پھر اللّٰہ تعالٰی نے انھیں کائنات کی چیزوں کے نام سکھائے وہیں سے تحقیق کی ابتدا شروع ہو ئی اور یہ اسی لئے رکھی گئی کہ لوگوں کو ہر چیز کے بارے میں آ گاہی اور شعور حاصل ہو۔
سوال 2-
علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار کہاں سے آیا؟
جواب 2۔علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ہی چلا آ رہا ہے ۔جو ابھی تک رائج ہے ۔
سوال 3-
مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار ومقاصد؟
جواب 3۔مدارس میں علم تحقیق اپنے اپنے مسلک کے تحت قرآن کے تراجم جو انھیں کے مسلک کے امام نے لکھے ہوتے ہیں وہ انہی کے تحت تحقیق کرتی ہیں اور انکا مقصد زیادہ تر تبلیغ اور غیر مسلمانوں کو اسلام کی طرف رغبت دلاناہوتا ہے۔
سوال 4-
مدارس کا معیار تحقیق کلیسائی ھے اس مشابھت کی مثالیں دیجئے
جواب 4
مدارس کا معیار تحقیق اس لیے کلیسائی سے مشابہ ہے کیونکہ انکا رول ہے ہم اپنے چرج میں خوش اور ہم حکومت کے کاموں میں دخل انداز ی نہیں کرینگے ۔
عینی محسن امینی
[16:06, 6/26/2024] Bhabi AFSHEEN: Elmul Roya
Question num ,2,
Afshi amini
[16:33, 6/26/2024] +92 302 2016819: امتحان علم تغذیہ
جواب #1
کھانے کی دعا
بسم اللہ وعلی برکة اللہ ۔
*اگر پڑھنا بھول جائیں تو یاد آنے پر یہ دعا پڑھتے ہیں
بسم اللہ اوله واٰخره
اور یہ بھی پڑھ سکتے ہیں
الحمدللہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین۔
پانی پینے کی دعا ہے:
"بِسْمِ اللّٰہِ" (پانی پینے سے پہلے)
"اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ" (پانی پینے کے بعد)
جواب #2
حلال و حرام کا فرق ہمیں جسمانی روحانی پاکیزگی کو برقرار رکھنے، صحت مند اور متوازن طرززندگی کوفروغ دینے، اچھے، برے میں فرق، نقصان وبرائی سے بچانے. نیکی کی طرف راغب ہونے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جواب #3
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْن (سورہ بقرہ آیت #168)
ترجمہ
ے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
جواب #4
متوازن غذا میں مختلف قسم کے کھانے شامل ہوتے ہیں جو بہترین صحت کے لئے ضروری اجزاء اور وٹامنز وغیرہ فراہم کرتے ہیں
پورے ہفتے میں ہم پھل، سبزیاں، گوشت، مختلف دالیں، پھلیاں، میوہ. دودھ اور اس سے بنی مصنوعات وغیرہ کا مناسب استعمال اور پانی کا بھرپور استعمال کر کے صحت مند و متوازن غذا جو ہماری صحت کے لئے مفید ھے حاصل کرسکتے ہیں
انعم زاہد امینی
[16:42, 6/26/2024] +92 322 2646235: اسلام وعلیکم۔ سوال نمبر 1۔ جواب علم تحقیق کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی کیو کے لوگوں میں شعور پیدا کرنا تھا۔ سوال نمبر 2۔ جواب۔ قرآن کریم سے آیا۔ سوال نمبر 3۔ جواب۔ مدارس میں مخصوص علوم کی تعلیم دی جاتی ہے علم تحقیق کی کی تعلیم مدارس میں نہی ہے۔ سوال نمبر۔ 4۔ جواب۔ اس کی تعلیم صرف صوفیانہ درس نظامی۔ میں دی جا رہی ہے رخسانہ امینی۔
[16:42, 6/26/2024] +92 322 2646235: امینی۔
[17:04, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Emtehan elma rohya. Kosar Amini
[17:11, 6/26/2024] Hafiz Danish Nizami: امتحان علم الرویاء
جواب#1) جی بالکل علم الرویاء ضروریات ء دین سے ہیں
بحوالہ قرآن کریم سورہ یوسف 13 پارہ آیت 101
رب قد اتیتنی من الملک وعلمتنی من تاویل آحادیث
بے شک میرے مالک تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا ۔
حضرت یوسف علیہ السلام نبی اللہ ہونے کے باوجود ان کو تعبیر الرویاء کا علم بھی عطا کیا جارہا ہے
تو ایک عالم و مفتی کو فتویٰ نویسی کے ساتھ ساتھ معبر بھی ہونا چاہئے۔
جواب #2) صلاحیت کا معیار
1) صاحب علم
2) صاحب علم ابدان و ادیان
3) دیانت دار
4) مزاج آشنا
جواب#3)1 سورہ والصافات آیت 104 تا 105
2 سورہ یوسف آیت43,44,45,46, 101
3 سورہ فتح آیت 27 ( لقد صدق اللہ و رسولہ الرویاء باالحق )
جواب #4)1# اما انبیاء حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد نماز فجر حضرات صحابہ کرام کا خواب سنا کرتے تھے
اس سے پتا چلا کہ حضرت جو ہم سے صبح خواب سنتے وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے
2# حضرت یوسف علیہ السلام
3# مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
4# حضور محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء رح
5# حضرت امام ابنِ سیرین رح
دانی امینی
[17:29, 6/26/2024] TrNizami: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم تحقیق
سوال 1-
علم تحقیق کی بنیاد کس نے رکھی اور کیوں رکھی؟
جواب:علمِ تحقیق کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی تلاش میں رکھی تاکہ اس کی معرفت پاسکیں.
سوال 2-
علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار کہاں سے آیا؟
جواب:
علمِ تحقیق کا موجودہ طریقہ کار اصل میں تو وہی ھے جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھی لیکن اس پر عمل چند ایک کے علاوہ کوئی نہیں کررہا.اس طریقہ کار پر ہمارے ادارہء نظام المدارس صوفیاء میں عمل کیا جاتا ھے یہ ہمارے مرشد برحق کی ہم پر نگاہِ شفقت ھے کہ انہوں نے ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر غور و تدبر کرنے کی ترغیب عطا فرمائ.
جبکہ جس علمِ تحقیق کی آج کل پیروی کی جارہی ھے وہ مغربی علماء کی تحقیق کا اور پادریوں کے کلیسائ نظام کا طریقہ کار ھے.
سوال 3-
مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار ومقاصد؟
جواب:
مدارس میں علمِ تحقیق کا طریقہ کار کلیسائی نظام کے جیسا ھے جس کا مقصد اپنے اپنے مسلک و تنظیم کو پروان چڑھانا ھے.مدارس اپنے علماء کے تراجم کردہ قرآن کے تحت ہی تحقیق کررہے ہیں.اور اسی تحقیق کے تحت لوگوں کی ذہن سازی کی جا رہی ھے. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس نظام نے لوگوں کی سوچوں کو محدود کردیا ھے.ان میں صرف ظاہری علوم کی تعلیم دی جاتی ھے باطنی علوم نہیں پڑھائے جاتے.اس نظام کے تحت لوگ حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے
اس کے خلاف علامہ اقبال کا شعر ھے.
جدا ہو دین سیاست سے
تو رہ جاتی ھے چنگیزی
سوال 4-
مدارس کا معیار تحقیق کلیسائی ھے اس مشابھت کی مثالیں دیجئے
جواب:
مدارس کا معیارِ تحقیق کلیسائی ھے اس نظام کے تحت درس و تدریس اور تبلیغ کے لئے گروہ کی صورت میں کام کیا جاتا ھے، اپنے اپنے مسلک کو فروغ دینے کے لئے ذہن سازی کی جاتی ھے. اس نظام میں اللہ، رسول صہ کی نوکری و خدمتِ خلق بھی شامل ہیں لیکن اس نظام میں یہ تمام خدمات بھی ایک خاص مسلک و تنظیم کی بنائ ہوئ پالیسیوں کے تحت کی انجام دی جاتی ہیں.
طالبِ اصلاح و دعا
نوشين امینی
[17:57, 6/26/2024] faiqaharoon5: سوال 1: علم تحقیق کی بنیاد ابن سینا نے رکھی تھی اور انہوں نے اسے اسلامی تعلیمی نظام کے لئے ترقی دینے کیلئے رکھا تھا۔
سوال 2: علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار غربی علماء کی تجربات اور نظریات سے آیا ہے جو تحقیقی پروجیکٹس اور مطالعے کے ذریعے ترقی کرتے رہے ہیں۔
سوال 3: مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار اس بات کی ترویج کرتا ہے کہ طلباء کو تحقیقی میند سیتھ لاحق کریں اور انہیں مختلف موضوعات پر تحقیق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
سوال 4: مدارس کا معیار تحقیق کلیسائی ہونے کا مطلب ہے کہ ان میں تحقیق کو اہمیت دی جاتی ہے اور طلباء کو خود سوالات کرنے اور جوابات تلاش کرنے کی سمجھ دی جاتی ہے۔ ہمارے درسِ نظامی میں علم تحقیق کی bhohat اچھی تعلیم دی جا رہی ہے
فائقہ امینی
[19:43, 6/26/2024] Uzair Asad Nizami Nizami: سلام و قدم بوسی مرشد کریم و مرشدہ جی
معذرت خواہ ہوں کہ بھانجے کی شادی اور طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے غیر حاضر ہوں
عذیر امینی
[20:36, 6/26/2024] +92 349 0214537: Talib islah ridaumair amini
[20:37, 6/26/2024] Kumail Nizami: سلام و قدم بوسی مرشد کریم و مرشدہ جی۔
کمیل امینی۔
[20:37, 6/26/2024] +92 349 0214537: Talib Islah ridaumair amini
[20:43, 6/26/2024] +92 348 8722420: Salamo qadambousi malik o murshid
Zain amini
[21:14, 6/26/2024] Subohi Nizami: Salam alaikum murshid e Kareem 2 din Sy mayri tabut thik nhi Hy ghashi Tari hori Hy bas nid ahri Hy Khana bhi moshkil Sy Kam khaya jarha Hy Pani zada garmi ki waja Sy piya jarha chakher arhy Hy ap ki tawja khass ki talib Dua ki tallbgar subohi Amini 🤲
[21:33, 6/26/2024] Qaiser Un nisa Nizami: امتحان علم تحقیق!
[22:36, 6/26/2024] Syed Azeem Ali Nizami: - امینی
[23:02, 6/26/2024] Ra Raiyan Nizami: نظام المدارس صوفیاء
امتحان علم تحقیق
سوال 1-
علم تحقیق کی بنیاد کس نے رکھی اور کیوں رکھی؟
جواب:علمِ تحقیق کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی تلاش میں رکھی تاکہ اس کی معرفت پاسکیں.
سوال 2-
علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار کہاں سے آیا؟
جواب:
علمِ تحقیق کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھی لیکن اس پر عمل چند ایک کے علاوہ کوئی نہیں کررہا.اس طریقہ کار پر ہمارے ادارہء نظام المدارس صوفیاء میں عمل کیا جاتا رہا ہے ۔
سوال 3-
مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار ومقاصد؟
جواب:
مدارس میں علمِ تحقیق کا طریقہ کار کلیسائی نظام کے جیسا ھے جس کا مقصد اپنے اپنے مسلک و تنظیم کو پروان چڑھانا ھے.مدارس اپنے علماء کے تراجم کردہ قرآن کے تحت ہی تحقیق کررہے ہیں.اور اسی تحقیق کے تحت لوگوں کی ذہن سازی کی جا رہی ھے. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس نظام نے لوگوں کی سوچوں کو محدود کردیا ھے.ان میں صرف ظاہری علوم کی تعلیم دی جاتی ھے باطنی علوم نہیں پڑھائے جاتے.ہیں
سوال 4-
مدارس کا معیار تحقیق کلیسائی ھے اس مشابھت کی مثالیں دیجئے
جواب:
مدارس کا معیارِ تحقیق کلیسائی ھے اس نظام کے تحت درس و تدریس اور تبلیغ کے لئے گروہ کی صورت میں کام کیا جاتا ھے، اپنے اپنے مسلک کو فروغ دینے کے لئے ذہن سازی کی جاتی ھے. اس نظام میں اللہ، رسول صہ کی نوکری و خدمتِ خلق بھی شامل ہیں لیکن اس نظام میں یہ تمام خدمات بھی ایک خاص مسلک و تنظیم کی بنائ ہوئ پالیسیوں کے تحت کی انجام دی جاتی ہیں.
طالبِ اصلاح و دعا
رابعہ امینی
[23:04, 6/26/2024] +32 480 61 85 66: اللھم صل علی قربت محمد
Qurbat e Muhammadin
نازیہ دانش امینی
[23:06, 6/26/2024] Syed Azeem Ali Nizami: SQB
MALIK O MURSHIDA
*نظام المدارس صوفیاء*
*امتحان علم تحقیق*
*سوال 1:*
علم تحقیق کی بنیاد کس نے رکھی اور کیوں رکھی؟
*سوال 2:*
علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار کہاں سے آیا؟
*سوال 3:*
مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار و مقاصد؟
*سوال 4:*
مدارس کا معیار تحقیق کلیسائی ہے، اس مشابہت کی مثالیں دیجئے
*جواب 1:*
علم تحقیق کی بنیاد قدیم یونانی فلسفیوں نے رکھی، خاص طور پر سقراط، افلاطون اور ارسطو نے۔ انہوں نے سوالات پوچھنے، مشاہدات کرنے، اور منطقی دلائل کے ذریعے علم کی جستجو کی۔ اسلامی دور میں، ابن الہیثم، الرازی، اور ابن سینا جیسے علماء نے بھی تحقیق کے اصولوں کو فروغ دیا تاکہ سائنسی اور فلسفیانہ مسائل کو حل کیا جا سکے۔
*جواب 2:*
علم تحقیق کا موجودہ طریقہ کار نشاۃ ثانیہ کے دور میں یورپ میں فروغ پایا۔ فرانسس بیکن نے تجرباتی طریقہ کار (empirical method) کو متعارف کرایا جبکہ رینی ڈیکارٹ نے عقلی طریقہ (rational method) کی اہمیت پر زور دیا۔ ان دونوں اصولوں نے مل کر موجودہ سائنسی تحقیق کے طریقہ کار کی بنیاد رکھی۔
*جواب 3:*
مدارس میں علم تحقیق کا طریقہ کار زیادہ تر روایتی اور کلاسیکی طرز پر مبنی ہے۔ اس میں بنیادی طور پر دینی متون کا مطالعہ، تشریح، اور تجزیہ شامل ہے۔ مدارس کا مقصد طلباء کو دینی علوم میں مہارت دلانا، اسلامی تعلیمات کو سمجھنا اور ان کی روشنی میں جدید مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
*جواب 4:*
مدارس کا معیار تحقیق معیار سے مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دونوں نظامات میں تعلیم کا بنیادی مقصد دینی تعلیمات کو فروغ دینا اور ان کی حفاظت کرنا ہے۔ مثال کے طور پر:
- دونوں میں مذہبی متون کا مطالعہ اور ان کی تشریح پر زور دیا جاتا ہے۔
- اس نظامات میں اساتذہ (علماء) کا کردار اہم ہوتا ہے جو طلباء کی رہنمائی کرتے ہیں۔
- دونوں میں تحقیق کا مقصد مذہبی عقائد کی تائید اور ان کی وضاحت کرنا ہے۔
یہ مشابہتیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح مدارس اور تعلیمی نظام دونوں میں مذہبی علوم کی تحقیق اور تدریس کا طریقہ کار مشابہت رکھتا ہے۔
طالب اصلاح توجہ
سید عظیم علی امینی
[23:29, 6/26/2024] Bhabi AFSHEEN: Elmy tehqeq
Question num 1
Afshi amini
[23:31, 6/26/2024] Bhabi AFSHEEN: Elmy tehqeq
Question num 2
Afshi amini
[23:31, 6/26/2024] Syed Azeem Ali Nizami: SQB
MALIK O MURSHIDA
*نظام المدارس صوفیاء*
*امتحان علم الرویاء*
*سوال 1:
کیا علم الرویاء ضروریات دین میں سے ہے؟ یعنی مفتی کو معبر بھی ہونا چاہئے؟
*سوال 2:*
نصاب رسول اللہ ﷺ میں معبر کی چار کونسی صلاحیتوں کو معیار قرار دیا گیا ہے؟
*سوال 3:*
قرآن میں علم الرویاء کن سورتوں سے اخذ کیا جا سکتا ہے؟
*سوال 4:*
انبیاء اور اولیاء میں سے کوئی تین ماہرین علم الرویاء بتلائیے۔
*جواب 1:*
علم الرویاء ضروریات دین میں سے نہیں ہے، لیکن یہ ایک مفید علم ہے جو دینی علوم کے ساتھ وابستہ ہے۔ مفتی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ معبر بھی ہو، لیکن اگر مفتی علم الرویاء میں مہارت رکھتا ہو تو یہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ اس سے وہ خوابوں کی تعبیر کر کے لوگوں کی رہنمائی بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔
*جواب 2:*
نصاب رسول اللہ ﷺ معبر کی چار صلاحیتیں جو معیار قرار دی گئی ہیں، یہ ہیں:
1. تقویٰ: معبر کو پرہیزگار اور نیک ہونا چاہئے۔
2. علم: معبر کو قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کا گہرا علم ہونا چاہئے۔
3. فراست: معبر کو فراست اور دانشمندی کی ضرورت ہے تاکہ خوابوں کی صحیح تعبیر کر سکے۔
4. تجربہ: معبر کو خوابوں کی تعبیر میں تجربہ کار ہونا چاہئے۔
*جواب 3:*
قرآن میں علم الرویاء کی تعلیمات خاص طور پر سورۃ یوسف اور سورۃ الفتح سے اخذ کی جا سکتی ہیں۔ سورۃ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب اور ان کی تعبیریں بیان کی گئی ہیں، جبکہ سورۃ الفتح میں فتح مکہ کا خواب ذکر کیا گیا ہے۔
*جواب 4:*
انبیاء اور اولیاء میں سے تین ماہرین علم الرویاء:
1. حضرت یوسف علیہ السلام: جو اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے مشہور ہیں۔
2. حضرت دانیال علیہ السلام: جنہیں خوابوں کی تعبیر کا خاص علم دیا گیا تھا۔
3. حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ: جو اپنے وقت کے مشہور معبر تھے اور خوابوں کی تعبیر میں مہارت رکھتے تھے۔
طالب
اصلاح و دعا
سید عظیم علی امینی
[23:31, 6/26/2024] Bhabi AFSHEEN: Elmy tehqeq
Question num 3
Afshi amini
[23:33, 6/26/2024] Bhabi AFSHEEN: Elmy tehqeq
Question num 4
Afshi amini
[23:58, 6/26/2024] Hasan Nizami KDN: Afshan kanwal Amini
[00:02, 6/27/2024] +92 349 2357445: سلام علیکم مرشدِ کریم مرشدہ جی دست بوسی قدمبوسی قبول طالب دعا
فیروزہ امینی
جواب : 1
علم تحقیق کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھی اس وقت دینی تعلیم کے لئے لوگوں میں شعور پیدا کرنا تھا
جواب : 2
تحقیق عربی زبان سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے دریافت کرنا ،کھوج لگانا ،چھان بین کرنا
اور اصل حقائق کو جاننا
جواب : 3
نظام المدارس صوفیاء جس کے بانی مرشد برحق حضرت خواجہ امین الحق نظامی م ظ کی سر پرستی میں تحقیق کا کام بہت احسن طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں کو دین کی بھلائی پہنچانا ہے
جواب : 4
کلیسائی نظام میں تحقیقی جھنڈ نکلتے ہیں تحقیق کے لئے مبلغ سازی کی جاتی ہے اسی طرح مدارس نے بھی اپنا معیار یہی بنا لیا ہے کہ جھنڈ کی صورت میں نکل کر تحقیق و تبلیغ کی جائے اور مدارس بھی مبلغ سازی کر رہے ہیں
طالبِ اصلاح
قیصر انساء امینی
[22:36, 6/26/2024] Syed Azeem Ali Nizami: امتحان علم تغذیہ
*سوال 1:*
تغذیہ غذائی علم و ھنر کو کہتے ھیں۔ کھانے اور پینے کی دعاء الگ الگ بتائیے۔
*جواب 1:*
کھانے کی دعا:
"اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"
پینے کی دعا:
"الحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا"
دعاء کھانے کی:
"اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت ڈال جو تُو نے ہمیں عطا کیا اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔"
دعاء پینے کی:
"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی رحمت سے میٹھا اور صاف پانی پلایا اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے اسے کھارا اور کڑوا نہیں بنایا۔"
*سوال 2:*
علم تغذیہ میں حلال و حرام کیوں ھے، کیا حکمت ھے؟
*جواب 2:*
اسلامی تعلیمات میں حلال اور حرام کی حکمت انسان کی صحت اور روحانی پاکیزگی کے لیے ہے۔ حلال چیزیں جسم کو فائدہ پہنچاتی ہیں جبکہ حرام چیزیں نقصان دہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، حلال و حرام کی پابندی سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور ایک منظم اور پرہیزگار زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے۔
*سوال 3:*
علم تغذیہ ضرورت دین ھے، ایک آیت اور ایک حدیث غذائی حکم پہ بتائیں۔
*جواب 3:*
قرآن کی آیت:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ" (البقرة: 172)
ترجمہ:
اے ایمان والوکھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔
حدیث:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزہ اور حلال رزق کھاؤ اور نیک عمل کرو، تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔" (مسلم)
*سوال 4:*
علم تغذیہ میں متوازن کھانوں کا ھفتے واری سات دنوں کا شیڈول دیجئے۔
*جواب 4:*
*پیر:*
- ناشتا: دلیہ، پھل، دودھ
- دوپہر کا کھانا: سبزی، چکن، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: مچھلی، سلاد، روٹی/چاول
*منگل:*
- ناشتا: انڈہ، ٹوسٹ، جوس
- دوپہر کا کھانا: دال، سبزی، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: چکن کڑاہی، سلاد، روٹی/چاول
*بدھ:*
- ناشتا: پراٹھا، دہی، چائے
- دوپہر کا کھانا: سبزی، دال، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: مٹن، سلاد، روٹی/چاول
*جمعرات:*
- ناشتا: پھل، دہی، ٹوسٹ
- دوپہر کا کھانا: پالک، چکن، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: مچھلی، سلاد، روٹی/چاول
*جمعہ:*
- ناشتا: دلیہ، دودھ، پھل
- دوپہر کا کھانا: سبزی، چکن، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: مٹن بریانی، رائتہ، سلاد
*ہفتہ:*
- ناشتا: انڈہ، پراٹھا، چائے
- دوپہر کا کھانا: سبزی، دال، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: چکن کڑاہی، سلاد، روٹی/چاول
*اتوار:*
- ناشتا: دہی، جوس، ٹوسٹ
- دوپہر کا کھانا: مٹن، سبزی، روٹی/چاول
- رات کا کھانا: مچھلی، سلاد، روٹی/چاول
- طالب اصلاح و دعا و توجہ
- سید عظیم علی امینی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔