نماز عید الفطر لیلۃ الجائزہ کے فوری بعد ھونی تھی مگر جناب سیدہ کے دونوں بچے فرمائش کربیٹھے شیر خورمہ کی اماں لگیں پکانے نانا لگے انتظار کرنے
خیر جی سویاں ھتیلیا۔ رول کرکے بناتی جاتی تھیں کڑاھی سےسویاں فرائی نکال کے سکھانا دودھ کجھور میں ڈپ کرکے ھمشیرہ کرنے میں جو وقت لگا تو مطلع الفجر ھوگیا چلو جی افطار کرو شھزادوں!
ھوگیا شیرخورمہ سے افطار؟ جاؤ اب نانا جانی کے ساتھ فجر مع عید پڑھو حسین بولے عید کا دن ھے میں سرخ جوڑا پہنونگا حس سبز پہنے چلو جی یہ نخرے بھی پورے اب؟
فجر پڑھ کے بچے نانا کی انگلی پکڑے کھلے میدان میں عید پڑھنے نکلے حسین داھنی انگلی حسن بائیں انگلی پکڑے چل رھے تھے کہ سڑک کنارے
منڈیر پہ بچہ رو رھا تھا حسین نے اجازت لی کہ۔نانذ جانی ذرا سا انتظار کرلیجئے میں بچے کا رونا پوچھ کے آوں؟ فرمایا جاؤ ھم۔یہیں کھڑے ھیں
دیر ھوگئی حسین کہاں نکل گیا؟ وہ تو اماں کے پاس کھڑا کپڑے بدل رھاھے؟ کیوں؟ جب بازار سے رات کو نیا جوڑا دلایاتھا خود ھی لال جوڑا مانگا تھا اب کیا ھوا؟ نانا جانی حسین پرانا جوڑا پہنے گا اور روتے ھوئے بچے نے بولا ھے کہ آج رات ھی مرے باپ کا انتقال ھوگیا نیا جوڑا رہ گیا عید کی نماز کو کیسے جاوں؟
اچھا! تو حسین یتیم بچے کو نیا جوڑا دینے گیا ھے؟ جی نانا جانی!
ٹھیک ھے ھم نماز عید اشراق پہ پڑھینگے
سورج نکلا حسین یتیم بچے کو نئے کپڑے پہناتے انسو پوچھتے نکلے۔لوجی بچہ پارٹی نے پوری امت کی تا قیامت نماز عیدالفطر لیٹ کرادی!!
یہ ھے بچہ اتھارٹی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔