رُکبانی عبادات کی ضرورت و اہمیت
متروک سنت کو زندہ کرنا سو شہیدوں کا اجر ہے۔حدیث۔
ومن الیل فتہجد بہ نافلۃ لک
بسمہٖ المعلم ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم
بتاریخ: 4 اکتوبر 2023 | بروز:بدھ | 17ربیع الاوّل 1445 ھ | سبق نمبر :2
شاگرد: طہ عامر نظامی استاد محترم: مرشد ومالک حضرت خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی
ءعلمِ علمِ اُسوہء
دولت سماعت بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی بوسیلہ مرشد۔حافظ انس نظامی نے بحکم مرشد یہ ملفوظات روایت کیں۔
وائس نمبر1 تا 3
رُکبانی عبادات کی ضرورت و اہمیت
رُکبانی عبادتیں چونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا ہے : فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ﴿٢٣٩﴾ البقرۃ ۔پارہ2۔کہ اس کا مفہوم یہ کہ جب تمہیں خوف ہو تو فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا۔ تم پیدل ہو یا پھر رکبان سواری پہ ہو تو تم اپنی عبادتیں کر سکتے ہو نماز پڑھ سکتے ہو ۔ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ اور جب تم حالت امن میں ا ٓجاؤ تو اللہ کا ذکر کرو اور یہ وہ علم ہے جو تم کو اجتماعی طور پہ تمہیں مرشد کی طرف سے ملا گیا ہو۔كَمَا عَلَّمَكُم
جو تمہیں معلوم نہیں تھا اور تمہیں اجتماعی طور پہ دیا گیا۔
اس کی ضرورت و اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ روز مرہ کے معاملات میں ہمارا مصروفیات اتنی ہے کہ ہمیں بکثرت عبادت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کے ساتھ والدین کے ساتھ ،بہن بھائیوں کے ساتھ کام دھندا پڑھائی ان چیزوں کے ساتھ اتنی عبادتیں نہیں کر سکتے تو چونکہ ہم جب جس وقت سفر میں موجود ہوں تو اللہ تعالی کا حکم ہے اور یہ وہ اُسوہ ہے جو متروک ہے عام طور پہ اس وقت اس دور حاضر میں ۔صوفیانہ تربیت میں ہمیں مرشد کریم نے یہ چیز عطا کی اور روز اس کی مشق اور اس کی تربیت جاری رکھتے ہوئے۔ تو اس لیے اس کی ضرورت و اہمیت ہے ،کہ ہم عبادت ہر وقت یہ مطلب اللہ کے ذکر میں اور اللہ کے قرب میں گزارنے کی۔
اب حالت سفر میں ہوں پیدل ہوں تو بس اللہ اللہ ہی ہمارا چلتا رہے ۔وہ نماز کی صورت ہو ،وہ مراقبے کی صورت ہو، وہ ذکر کی صورت ہو، تو اس کی ضرورت و اہمیت یہی ہے کہ عام زندگی میں بھی اگر مصروفیات سے وقت نہیں نکال پا رہے تو ہم رُکبانی طور پہ اور پیدل کی صورت میں اللہ تعالی کی عبادتیں اس طرح کر سکتے ہیں جس کا حکم اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا جو آیت میں نے پڑھی تھی ۔
تہجد کے 3 اوقات
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ (سورہ بنی اسرائیل، آیت79،پارہ15)
افضل اصلاۃ بعد الفریضۃ صلاۃ الیل۔ حدیث
تہجد کی جو تین اوقات ہمیں شریعت میں ملتے ہیں، اس میں سے ایک تو یہ کہ عشاء کے ساتھ جو شخص اس خطرے میں موجود ہو جس کو اس چیز کا خوف ہو کہ وہ تہجد اپنی مکمل نہیں کر پائے گا رات میں وہ سوتا رہ جائے گا یا صبح اس کو جلدی اَرلی مارننگ کام پہ جانا ہے۔ تو وہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے والی دو نفل تہجد کی نیت سے پڑھ لے تو یہ اس کی ایک تہجدگئی ۔
دوسرا یہ کہ وہ جو جس کا حکم فجر کے ساتھ ساتھ دو فجر کی دو سنتوں سے پہلے ادا کرنے کاآیا ہے تو ایک دوسری کنڈیشن یہ ہو گئی یہ اس ٹائم بندہ ادا کر
لے اپنی تہجد۔ تیسرا: اور جس کی یہ بھی رہ جائے تو پھر وہ فجر کی دو سنتیں دو فرض کے بعد جو نفل نمازیں ہوتی ہیں اشراق اور چاشت اس میں تہجد کی نیت سے پڑھ سکتا ہے۔ اس کی ترمذی میں اس کی حدیث بھی موجود ہے تو یہ فجر کی فرد نماز کے بعد بھی تہجد ادا کر سکتا ہے۔ نیت کر کے جو اشراق و چاشت کی نفلیں ہوتی ہیں اس میں۔ یہ تین قسم کے تہجدکے اوقات ہوتے ہیں جو علم اُسوہ میں ہم نے سیکھے۔
رُکبانی عبادتیں یہ تین قسم کی عبادتیں ہوتی ہیں
نماز، مراقبہ اور ذکر۔ چونکہ نماز تو ہم ادا کر سکتے ہیں اور ذکر بھی ہم کر سکتے ہیں لیکن مراقبہ نہیں کر سکتے بحالت رُکبان اور
رُکبانی اور رجال یعنی جب پیدل ہوں ۔
کیونکہ اس میں آنکھ بند کرنا ،اس کے مراقبے میں آنکھ بند کر کے مراقبہ کیا جاتا ہے اور اس میں خطرہ لاحق ہوگا کہ ہم کسی چیز سے ٹکرا جائیں یا کوئی حادثے کا شکار ہو جائیں۔ تو اس لیے اس میں نماز، ذکر، مشاربہ، یہ ان قسم کی عبادت جاری رکھ سکتا ہے انسان اور اپنی مقصد عام معمولات میں اگر آفس سے وہ گھر جا رہا ہے گھر سے کسی اور یونیورسٹی جا رہا ہے اور اگر وہ اس خوف میں ہے کہ اس کی نماز کا وقت جا رہا ہے یہ تو ایک قسم کا خوف ہے۔ کئی قسم کے خوف ہے مقصد کیونکہ قرآن پاک میں اللہ نے فرمایا وَ اِنْ خِفْتُمْ تمہیں خوف ہو وہ خوف کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے۔ تو اس میں تم رکبانی عبادت کر سکتے ہو۔ نماز پڑھ لو ،مراقبہ ذکر ہے مراقبہ کر لو اور مشاربات کر لیں اپنی روحانیت کو بحالت سفر انسان اللہ تعالی سے قرب حاصل کرتے ہوئے حاصل کر سکتا ہے۔
طریقہ نماز تہجد
عام طور پہ عموماً دو رکعت تہجد کی نماز پڑھتے ہیں حضرت نے کہا تھا اس میں کچھ چیزیں یہ ہیں کہ جیسے دو رکعت عام طور پہ جو نماز پڑھتے ہیں تہجد کی نیت سے تو اس میں تو قرأت ہماری معمول کے مطابق رہے گی تو بس
ہم جب رکوع میں جائیں گے تو سبحان ربی العظیم سات مرتبہ تسبیح پڑھیں گے۔
اور جب ہم تو سجدے میں جائیں گے تو سبحان ربی الاعلی سات مرتبہ پڑھیں گے ۔
اور جب ایک سجدہ مکمل کر کے جب اُٹھیں گے تو پہلے اور دوسرے سجدے کے درمیان جب ہم بیٹھتے ہیں(جلسہ) جس حالت میں ۔ اس میں ہم
استغفر اللہ ربی ،استغفر اللہ ربی،استغفر اللہ ربی کا ذکر کریں گے ۔
اور پھر جب التحیات میں ہم آئیں گے تو درود ابراہیمی مکمل کر لیں گے، اس کے بعد دعا پڑھنے سے پہلے دو ردِ ابراہیمی کے بعد ہم اِنَّا رَبِّی قَرِیْبٌ مُجِیْب کا ذکر کر کے پھر دعا پڑھ کے ،ہم سلام پھریں گے ۔
یہ تہجد کا طریقہ حضرت نے بتایا کہ اس طرح پڑی ہے ۔










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔