اک خاص تحفہ اہل نسبت کے لیئے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔
نظام تکوین میں یہ چار نام
حضرت خواجہ عبد الرحیمؒ مشرقی ،
حضرت خواجہ عبد الکریم ؒمغربی،
حضرت خواجہ عبد الرشیدؒ شمالی،
حضرت خواجہ عبد الجلیل ؒجنوب
زمین کے چاروں اوتاد ہیں۔۔۔ چار ستون۔۔۔!
انہی کو ہی سلاطین اربعہ کہا جاتا ہے۔۔ یعنی چاروں سمت کے بادشاہ
کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سلاطین کو تو کیا فرق پڑنا مجھ جیسے کتے کمینے کو بھی نہیں فرق پڑتا کیونکہ میرا ایسے اساتذہ کرام کے ساتھ سفر گزرا ہے جنہیں ان سلاطین کی زیارت و ہم کلامی کا شرف ملا۔۔ ایسے ایسے گرو سے بھی واسطہ رہا جنہیں ایک سلطان نے کچھ عنایت بھی فرمایا تھا۔
ان کا ذکر خیر اس پوسٹ میں اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ انہی مبارک ہستیوں کا ہم 4 رجب المرجب کو عرس مناتے ہیں ۔۔ عرس منانے سے مراد قرآن خوانی لنگر نیاز ہے۔
اسی روز سات ستاروں کی لوح بھی بنتی ہے۔۔ لوح سبع سیارگان۔
ان چاروں ناموں کی بڑی برکتیں ہیں۔
کوئی گم ہو گیا ہو ،
ناحق گرفتار ہوا تو درمیان میں گریفتہ کا نام لکھ کر چاروں اطراف ان کے اسماء لکھ کر پھلدار درخت پہ لٹکا دیں۔۔
( واضع رہے کہ جس سمت کے یہ سلطان ہیں اس سمت میں ہی ان کا نام لکھا ہونا چاہئے۔۔ فی الحال میں جان بوجھ کر ان کے ناموں کے ساتھ شرقی غربی شمالی جنوبی نہیں لکھ رہا۔۔۔ وال پہ ویسے موجود ہے)
ان شاء اللہ خیر ہو گی۔۔۔ اس طرح کے بہت سارے اعمال موجود ہیں۔۔ خیر و برکت خوشحالی کے بھی ۔۔
اس سے ایک چیز یاد آئی ۔۔۔
مدینہ منورہ کے سات مفتیان کے نام کی بڑی برکتیں ہیں۔۔
چاروں آئمہ مسالک کے نام
چاروں خلفاء کے اسماء مبارک
ایسے ہی مسجاد کے اماموں کے نام۔۔۔
آپ کے ارد گرد تہجد گزاروں کے نام
اور تو اور ایک چٹکلہ بتاتا ہوں۔۔۔
کسی کام میں رکاوٹ ہو تو
اپنے قرب وجوار کے 7سود خوروں کے نام لکھ کر ان پہ سات جوتے ماریں اور حکم لگائیں۔۔۔

ان شاء اللہ کام جرور ہووے گا


اپنی عقل سمجھ سے ایسے طریق سے آپ ناقابل یقین قسم کے کام وی لے سکتے ہیں


مگر وہ لڈن جعفری مرحوم والی بات کہ " میں نہیں بتاؤں گا"
اپنی اپنی عقل سمجھ استعمال کر لو۔۔ فارمولا میں دس دتا اے۔۔۔
""""""' ؛؛؛؛؛؛؛؛؛
شیخ احمد جام چشتی رحمت اللہ کی غزل
منزل عشق از مکان دیگر است۔۔۔
(منزل عشق از مکانے دیگرست
مرد معنی را نشانے دیگرست
عقل کے داند کہ ایں رمز از کجاست
کایں جماعت را نشانے دیگرست
آں فقیرانے کہ ایں جامے روند
ہر یکے صاحب قرانے دیگرست
دل چہ می بندی دریں فانی جہاں
کایں جہاں را ہم جہانے دیگرست
در دل مسکین ہر بیچارۂ
شاہ را گنجے نہانے دیگرست
بر سر بازار صرافان عشق
زیر ہر دارے جوانے دیگرست
کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جانے دیگرست
دل خورد زخمے ز دیدہ خوں چکد
ایں چنیں زخم از کمانے دیگرست
عشق را در مدرسہ تعلیم نیست
کاں چناں علم از بیانے دیگرست
احمداؔ تا گم نکردی ہوش دار
کیں جرس از کاروانے دیگرست)
یہ صوفیانہ ادب کا شاہکار کلام ہے اور عملیات کا بے بہا خزانہ!
ویسے تو اس کلام کے سبھی اشعار سے آپ ناقابل یقین کام لے سکتے ہیں۔۔ لیکن میں بطور تحفہ صرف ایک شعر پیش کرتا ہوں۔۔۔۔
کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است
(کلام میں جان کے نیچے زیر ہے ۔۔۔ پڑھنے میں جانے ہے۔۔۔ بعض جگہ "جان" کے جگہ "جانے" بھی لکھا ہوا ہے۔۔
اور "دیگر است" کو "دیگرست" میں چونکہ فارسی نا بلد ہوں اس وجہ سے رائے دینے سے قاصر ہوں ۔۔۔کہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے یا الگ الگ۔۔ تاہم نقوش میں آپ جیسے مرضی لکھیں ان شاء اللہ کلی تاثیر پائیں گے)۔
پہلی تصویر۔۔۔
سولہ خانوں کا نقش ہے۔۔۔
اور لکھنے کی ترتیب یعنی نقش کی چال ایسے ہے کہ دائیں سے بائیں۔۔۔
باوضو ہو کر کاغذ پہ پہلے بسم اللہ شریف یا عددی قیمت 786 لکھیں
پھر سولہ خانے ۔۔۔ بناتے ہوئے درود پاک پڑھتے رہیں۔۔۔
پھر دائیں سے بائیں لکھنا شروع کریں ۔۔۔
پہلے خانے میں کشتگان
دوسرے میں خنجر
تیسرے میں۔ تسلیم را
چوتھے خانے میں۔ ہر زماں
اب اسی چوتھے خانے سے نیچے آتے جائیں۔۔۔ یعنی بائیں کونے سے
اس میں لکھنا ہے از غیب
اس سے نچلے میں۔ جان ( ن کے نیچے زیر یا جانے)
اس سے نچلے یعنی بائیں طرف کے سب سے نچلے خانے میں
اس میں لکھیں۔ دیگر است
اب پھر دائیں طرف اوپر سے نیچے خانے میں۔ خنجر
اگلے میں۔۔۔۔ تسلیم را
اس سے اگلے میں ۔۔۔ ہر زماں
اب پھر نیچے کی طرف
نچلے خانے میں ۔۔۔۔ از غیب
اس سے نچلے میں۔۔۔۔ جان
یعنی اسی ترتیب سے نقش پر ہو گا۔۔۔
یعنی شعر میں اگلا لفظ آگے اور نیچے بھی۔۔۔
بس جی نقش مکمل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ دوسری تصویر
اس نقش میں چار کالم اور پانچ قطاریں ہیں ۔۔۔
یہ نقش بھی اوپر والے کی طرح ہی پر ہو گا۔۔۔ مگر سب سے آخری خانہ یعنی بایں طرف ک سب سے نچلا خانہ اس میں سب سے آخر پہ لکھنا ہے۔۔۔
اور لکھنا ہے
مدد کن مدد کن یا فرید الدین شکر گنج
نقش مکمل ہوا۔۔۔
یہ لیں جی آج میں نے کلیجہ کھول کے آپ کے سامنے رکھا ہے۔۔۔ عامل بابے پیر فقیر ایسے خاص الخاص راز اپنے سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔۔۔ مر کر بھی نہیں بتاتے ۔۔
پر نہ میں عامل نہ میں بابا نہ پیر فقیر۔۔۔
الحمد للہ یہ چشتیہ فیض ہے اور میرے بابا جی کا۔۔۔
کسی کو کجھلی ہو کہ بابا فرید سے مدد مانگنا تو شرک ہے٫ بدعت ہے پر نقش لازمی لکھنا ہے
تو وہ پہلی تصویر والا نقش لکھ لے۔۔۔
کسی کو اگر اس شعر پہ بھی شدید خارش ہو تو وہ قصیدہ بردہ شریف کا شعر کا حرفی نقش بنا لے اسی ترتیب اور چال سے
ھُوَ الْحَبِیْبُ الَّذِیْ تُرْجٰی شَفَاعَتُہٗ
لِکُلِّ ھَوْلٍ مِّنَ الْاَھْوَالِ مُقْتَحِمِ
یہ تیسری تصویر ہے۔۔۔
یکم رجب کو پہلی ساعت میں گلاب زعفران سے کاغذ پہ لکھ لیں۔۔۔ بے شک چاندی پہ کندہ کر لیں۔۔بے شک تانبے کی لوح بنا لیں۔۔ پیچھے مقصد لکھنا چاہیں تو لکھ لیں۔۔ چاہیں تو 4رجب کو بنا لیں چاہیں تو 13رجب کو چاہیں تو 22رجب المرجب کو۔۔۔
ان شاء اللہ مقصد پورا ہو گا.
لا علاج بیماری میں مریض کو 41 دن پلائیں۔۔۔
ان شاء اللہ مقصد پورا ہو گا۔۔۔ باقی آپ کا اپنا نصیب۔۔ کچھ اشاروں میں کہہ دیا ہے اور کچھ کھلم کھلا۔۔۔!!
میں نے اپنا سینہ چاک کر کے پیش کر دیا ہے۔۔۔ ان شاء اللہ دنیا کی کوئی مشکل اس کی تاثیر کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں! بہت بڑی باتا کہہ دی ہے۔۔۔۔
کوئی نہ سمجھے خدا کرے!
والسلام!!
گدائے نظام!
















0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔