مقام ولایت غوثیت کبری خاص و مقام مداریت
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ فرماتے ھیں قطبیت کبریٰ قطب الاقطاب کا مرتبہ ھے کہتے جو مرتبہ باطن آنحضرت صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ھے اور یہ مرتبہ ھے سرور عالم صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ورثہ کیلے مخصوص ہے اسلیے کہتے آنحضرت صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم نبوت عامہ ورسالت شاملہ میں سارے عالم کیلے اکملیت کے ساتھ مخصوص ہیں توخاتم الولایت اور قطب الاقطاب وہی ہوگا جو باطن خاتم النبوت پر ھو -فتوحات فصل 31باب198بحوالہ الدر المنظم فی مناقب غوث الاعظم ص 150 صاحب الدر المنظم فرماتے ھیں قطب الاقطاب کا وہ ہے جس کے مرتبہ سے اعلیٰ سواے نبوت عامہ اور کوئ مرتبہ نہ ہو اسی وجہ سے قطب الاقطاب صدیقوں کا سردار ھوتاھے ص 50 لطائف اشرفی میں 265میں شیخ اکبر کے فرمان کوئ اسطرح نقل کیا گیا ھے اما القطب وہ ھو موضع نظر اللٰہ تعالیٰ من العالم فی کل زمان وجمیع اوان وھو علی قلب اسرافیل علیہ السلام و قطب الاقطاب وھوعلی باطن نبوتہ صلی اللٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فلا یکون الاقطاب لورثتہ لاختصاصہ علیہ السلام بالاکملیت فلا یکون خاتم الولایت و قطب الاقطاب الا علی باطن خاتم النبوۃ عبارت بالا سے واضح ھوا کہ قطب المدار قطبیت کبریٰ کے مقام پر فایز ھوتاھے قطب المدار جو قطب الاقطاب بھی ھوتاھے وہی اکملیت کے ساتھ وراثت محمدی صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کاحامل وہ متحمل ھوتاھے اور قطب المدار خاتم النبیین صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت سے منتہاے درجہ ولایت خاتم الولایت کے منصب پر فائز ھوتاھے وہی ولایت خاصہ محمدیہ صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم کا وارث ھوتاھے حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ ألنورانی فرماتے ھیں ولایت خاصہ محمدیہ صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم عروج و نزول کے تمام طریقوں میں دوسرے تمام مراتب ولایت سے ممتازاور الگ ھے مکتوب 135 یہی امام ربانی مزید فرماتے ھیں قطب ارشاد جو کمالات فردیہ کا بھی جامع ہو تا ھے بہت عزیز الوجود اور نایاب ھے اور بہت سے قرنوں اور نایاب بے شمار زمانوں کے بعد اس قسم کا جو ہر وجود میں آتا ہے عالم تاریک اسی کے نور ظھور سے نور انی ھوتاھے اور اس کی ھدایت و ارشاد کا نور محیط عرش سے لے کر مرکز فرش تک تمام جہاں کو شامل ھوتاھے اور جسکو کسی کو ایمان و معرفت اور رشد و ہدایت حاصل ہونا ہوتا ھے اسیوجہ کےم ذریعے سے حاصل ہوتا ھے اور اس کے وسیلے کے بغیر کوئ شخص اس دولت کوئ نہیں پا سکتا مکتوب 260 پروردگار عالم جب کسی ولی کو مرتبہ قطب المدار پر فایز کرتا ھے تو اس کو تاج کرامت دےکرتخت پروردگار بیٹھاتا ھے اور اپنی خلافت سے مشرف فرماکر عالمین کیلے اسکو مطاع ومراد بنا دیتا ھے تو چنانچہ شیخ اکبر فتوحات میں فرماتے ھیں کہتے جب اللٰہ تعالیٰ کسی بندے کو مرتبہ قطبیت کبریٰ میں متولی فرماتاھے تو عالم مثال میں اس کے لیے ایک تخت بیچا کراس پر اسکو بیٹھاتا ھے اور اس مکان کی صورت بحیثیت اسکے مرتبہ کے بناتا ھے پھر اسکو تمام اسما کا خلعت دیا جاتا ھے جنکا طالب تمام عالم ھے پھر اس سے حلے ظاہر ھوتے ہیں وہ سب اس قطب کو پہنا کر اور تاج کرامت دےکرتخت پر بیٹھاتے ھیں اس وقت اس کی حالت خلیفہ کی ھوتی ھے پھر اللٰہ تعالیٰ تمام عالم کو حکم دیتا ھے اس سے بیعت کرنے کا اس شرط پر کہ سب لوگ اس کیلے اطاعت کر یں پس سارا عالم ادنی ٰ واعلیٰ سب اس کی بیعت میں داخل ھوتاھے جاتے ھیں فتوحات مکیہ 336واں باب بحولہ الدر المنظم
مقام و فیضانِ غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ اور غوثیتِ کُبرٰی۔
آپ رضی اللہ عنہ غوثیتِ کُبرٰی پر فائز ھیں۔ تمام غوثوں کے بھی غوث(غوث الاغیاث) ھیں ۔۔ اور تمام قلندروں، فقیروں کے سردار ھیں اور تمام ھی قسم کے غوث، عارفین، خواجگان آپکے کی سرداری کے نیچے ھیں۔۔ جس نے بھی آپ کے مقام کا انکار کیا، وہ اپنے مقام، ولایت، غوثیت، قلندریت، فقیری، عارفی، خواجگی سے خارج اور معزول ھوا ۔۔
12 اماموں کے بعد آپ ھی تمام امت کے ولیوں ، قلندروں، خواجگان، فقیروں، عارفین کے سردار ھیں، اور سب پر آپکا قدم مبارک ھے ۔۔
جنہوں نے حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ان کے سلسلہ میں بیعت کی وہ بھی اُن کے مریدوں میں ہیں اور جو اس سلسلے میں بیعت نہ کر سکے مگر گردن جھکا لی وہ بھی مرید ہو گئے۔
جو شخص زبان سے کہہ دے کہ یا غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ میں آپ کا مرید ہوں وہ غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کا مرید ہو گیا یا جو شخص حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ سےمحبت اور عقیدت رکھے وہ بھی آپ کے مریدوں میں شامل ہونے کی فضیلت میں شامل ہے۔۔اور پھر وہ لاج رکھ لیتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھنے والے تو حضور غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کے مرید ہیں ہی مگر جملہ سلاسل سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کے مربی و رہنما اور مریدین بھی حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کے مرید اور فیض یافتہ ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدَمِیْ هٰذِه عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيَّ اﷲ ’’میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ میرے مرید کی گردن پر۔ ۔ ۔ یا میرے سلسلے کے ہر ولی کے کندھوں پر ہے۔ ۔ ۔ یہ نہیں کہا۔ ۔ ۔ بلکہ فرمایا ہر ولی کی گردن پر ہے۔ گویا جو حضور غوثِ پاک کو نہ مانے وہ ولی ہو ہی نہیں سکتا اور جو ولی
حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کے زیرِِ قدم ہونے کا انکار کر دے اگلے ہی لمحے اس سے ولایت سلب ہو جائے گی۔
اور سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ جب حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کا قدم مبارک تمام اولیاءکرام کی گردن پر ہے تو ان اولیاءکرام کے سلاسِل اور مریدوں کی گردن پر بھی آپ کا قدم مبارک، تصرٌْف اور فیض موجود ہے۔
سلسلہ چشتیہ اور فیضانِ غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ۔
حضرت خواجہ خواجگان قطب الارض والسموات نائب عطائے رسول ﷺ خواجہ سید معین الدین چشتی سلطان فی الہند حضور خواجہ غریب نواز اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ خراسان کے پہاڑوں میں محوِ مراقبہ ہیں۔ آپ نے عالم کشف میں دیکھا اور حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان سن کر اپنی گردن اور سر جھکا لیا اور عرض کیا یا سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کا قدم مبارک میری گردن پر ہی نہیں بلکہ میرے سر اور میری آنکھوں پر ہے۔ صاحب قلائد الجواہر بیان کرتے ہیں جب آپ نے یہ اعتراف کر لیا تو آپ حضور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ 50 دن سے زائد حضور غوثِ پاک کی صحبت میں اکتساب فیض کے لئے رہے۔ جب فیض پا لیا تو عرض کیا حضور اب عراق مجھے دے دیں، فرمایا : معین الدین عراق میں شہاب الدین سہروردی (سلسلہ سہروردیہ کے امام صاحب عوارف المعارف حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی) کو دے چکا ہوں۔ تمہیں ہندوستان عطا کرتا ہوں۔خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بعد میں جب مدینہ منورہ حاضر ہوۓ تو سرکار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آپ کو ہند کی ولایت کا فرمان جاری فرمایا، بس حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید قیامت تک حضور غوثِ پاک کے مرید ہیں۔ اس فیض کی لطافت سے سلسلۂ چشتیہ حضور غوثِ پاک کی شاخ اور فیضانِ غوثیتِ مآب کی برانچ ہو گئی۔
سلسلہ سہروردیہ اور فیضان غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ۔
اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کے امام حضرت خواجہ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری عمر 14 سال تھی۔ تمام عقلی ونقلی علوم میں نے پڑھ لئے۔ علمِ ظاہری میں جو کچھ تھا وہ میں نے پڑھ لیا تو میرے شیخ حضرت ابو نجیب عبدالقاھر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ مجھے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں لے کر گئے اور عرض کیا۔ حضور میرے اس بیٹے نے تمام علوم پڑھ لئے ہیں اب فیض کے لئے آپ کی بارگاہ میں لایا ہوں۔ حضرت شیخ شہاب الدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک نے اَپنا دستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا اور سارے علوم کا صفایا ہوگیا۔ اس کے بعد چند سوالات کئے کہ ان کا جواب دو، میں نے جو کچھ پڑھا تھا کچھ بھی پاس نہ رہا لہذا جواب نہ دے سکا۔ آپ مسکرا پڑے، فرمایا : پریشان نہ ہو۔ تختی پر کچھ لکھنا ہو تو پہلا لکھا ہوا صاف کرنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ پہلے علم تھا اب معرفت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اُس کے بعد دوبارہ دستِ اقدس رکھا تو سینہ معرفت کے سمندروں سے موجزن کر دیا پس سہروردی سلسلے میں غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر قیامت تک جس کو حضرت شیخ سہرورد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ملے گا۔ وہ فیض دراصل دستِ غوثیتِ مآب کا فیض ہے۔ وہ حضور غوثِ پاک کا فیض ہے اور اسی طرح سب ان کے مرید ہو گئے۔ گویا سلسلہ سہروردیہ بھی شجرِ غوثیت کی باثمر شاخ ہے۔
سلسلہ نقشبندیہ اور فیضان غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ۔
تیسرا سلسلہ نقشبندیہ ہے جس کے بانی حضرت خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ صاحب قلائد الجواہر نے لکھا ہے۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران شہر بخارا کے قریب سے گزرے تو اِس طرف چہرۂ مبارک کیا اور کھڑے ہو کے فرمایا میرے بعد شہر بخارا میں میرا بیٹا بہاء الدین پیدا ہو گا جو میرے فیض کا امین ہوگا۔ شاہِ نقشبند رضی اللہ عنہ 157 سال بعد آئے اور حضور غوثِ پاک کے فیض سے مامور ہوئے۔ گویا سلسلۂ نقشبندیہ میں بھی حضور غوث پاک کا فیض ہے اور یہ سلسلہ نقشبندیہ بھی حضور غوثِ پاک کے شجرِ ولایت کی سرسبز شاخ ہے۔ اس لئے کیوں نہ کہیں ’’پکارو ہر گھڑی یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ‘‘۔
غوثیتِ کُبرٰی۔
حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں کہ طریقہ ولایت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں حضور سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اﷲ نے پوری ولایت کا منبع اور فاتح بنایا۔ حضرت سیدۂ کائنات خاتونِ جنت ولایت کا منبع ہوئیں۔ حسنین کریمین پاک علیہ السلام ہوئے۔ بعد ازاں امام زین العابدین رضی اللہ عنہ،امام محمد باقر رضی اللہ عنہ،امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور یکے بعد دیگرے گیارہ امام آئے۔ اِن کے ہاں سے ولایتِ عظمیٰ کا فیض آتا رہا اور جب حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کی باری آئی تب سے لے کر آج تک اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد تک اب ہر ولی غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی کا محتاج ہے۔ اب سب کو غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی کے فیض کی ضرورت ہے۔
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک دفتر رسالت میں اس کی ولایت پر حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی اور حضرت مولا علی شیر خدا مہر نہ لگا دیں۔ گویا سب ولیوں کا مرجع غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلا نی ہوئے۔
سلسلہ شاذلیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ۔
عالم عرب میں اور مشہور سلسلے بھی ہیں، ان میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ ہے ان کے امام حضرت امام ابوالحسن شاذلی ہیں جن کا وظیفہ حزب البحر کا بڑا اہم مقام ہے اور بڑے بڑے اولیاء و عرفاء پڑھتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ مغرب میں ہوئے ہیں ان کا مزار مبارک مصر میں ہے، ان کے شیخ ابو مدین غوث المغربی ہیں۔ ابو مدین غوث المغربی ملک مغرب کے گاؤں فاس میں اپنے منصب پر بیٹھے تھے جب حضور غوث پاک نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا ادھر بغداد میں اعلان ہوا، غوث المغربی نے وہیں گردن کو جھکادیا اور اطاعت غوث میں آگئے۔ پس سلسلہ شاذلیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا ایک طریق ہے۔
سلسلہ رفاعیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ
اسی طرح سلسلہ رفاعیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا سرچشمہ ہے۔ اس سلسلہ کے بانی شیخ السید احمد الرفاعی ہیں آپ مصر میں ایک سفر پر تھے کہ اچانک ایک مقام آیا کہ آپ نے گردن زمین تک جھکالی اور کہا بل علی راسی وعینی میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ سب نے پوچھا حضور یہ ماجرا کیا ہے فرمایا تمہیں کیا خبر آج بغداد کے منبر پر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ میں نے گردن جھکائی ہے تاکہ ولایت رہ جائے۔ ولایت غوث پاک کے قدموں کی محتاج ہے پس سلسلہ رفاعیہ بھی شجر ولایت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ کے فیض کی شاخ ہے۔
مرتبہ نبوت ہو تو ہر طرف فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مرتبہ ولایت ہو تو ہر طرف فیض غوث العالمین کا ہے۔ لوگ تو فقط غوث الثقلین کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وہ تو سب جہانوں کے غوث ہیں، جن و انس کے غوث ہیں، سب ولیوں کے غوث ہیں، تمام انسانوں کے غوث ہیں کیونکہ ان کا فیض حقیقت میں فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ ۔ ۔ بات تو ساری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی ہے۔ جب کل عالم میں حضور غوث پاک کا فیض ہے پھر کیوں نہ کہیں غوث پاک مرتبہ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ اللہ نے حبیب کو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے اِس بیٹے کو کائنات ولایت میں غوث العالمین بنایا۔
بعض اولیاء اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے جب کسی کے لئے ولایت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میرے بیٹے عبدالقادر کے پاس لے جاؤ جس منزل پہ چاہے گا فائز کردے گا۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے دستخط سے ولی Appoint ہوتا ہے اور توثیق کے لئے پھر فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتی ہے، حضور غوث پاک کے دستخطوں کو دیکھ کر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔
" باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب "
حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ، نے فرمایا کہ قیامت تک میں اپنے تمام مریدوں کا ضامن ہوں.
مشائخین کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ، نے فرمایا کہ قیامت تک میں اپنے تمام مریدوں کا ضامن ہوں کہ ان کی موت توبہ پر واقع ہوگی۔ یعنی بغیر توبہ نہ مریں گے۔ چند مشائخ نے حضور سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ کرے اور نہ ہی آپ کے ہاتھ سے خرقہ پہنا ہو ، بلکہ صرف آپ کا ارادتمند ہو اور آپ کی طرف اپنے کو منسوب کرتا ہو تو کیا اسیے شخص کو آپ کے اصحاب میں شمار کیا جاسکتا ہے؟ اور آیا ایسا شخص ان فضیلتوں میں شریک ہوگا جو آپ کے مریدوں کو حاصل ہو نگی؟ حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلا نی رضی اللہ عنہ، نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آپ کو میری طرف منسوب کیا اور مجھ سے ارادت و عقیدت رکھی تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول کرے گا۔ اس پر اپنی رحمتیں نازل کرے گا اور اس کو توبہ کی توفیق دے گا اگرچہ اس کے طریقے مکروہ (نا پسندیدہ) ہوں۔ اور ایسے شخص کا شمار میرے مریدوں اور اصحاب میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کے صدقہ وعدہ کیا ہے کہ میرے دوستوں ، میرے اہلِ مذہب، میرے راہ پر چلنے والے ،میرے مریدوں ار مجھ سے محبت کرنے والے کو جنت مرحمت فرمائے گا۔ (بہجۃ الاسرار)
اللَّهُـمّ صَــــــلٌ علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ
كما صَــــــلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ
مَجِيدٌ اللهم بارك علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ كما
باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهـُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وسلامک وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْـمُرْسَلِيـنَ وَإِمَامِ الْـمُتَّقِيـنَ وَخَاتِمِ النَّبِيِّيـنَ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامِ الْـخَيْرِ وَقَائِدِ الْـخَيِرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ
اللَّهـُمَّ ابْعَثْهُ الْـمَقَامَ الْـمَحْمُودَ الَّذِي يَغْبِطُهُ بِهِ الأَوَّلُونَ وَالآخِرُونَ واٰلہ و اصحٰبہ وازواجہ وذریّتہ وبارک وسلم
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَیْنٰـکَ عَنْهُمْج تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰـوةِ الدُّنْیَاج وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَکَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا.
’(اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں (اس کی دید کے متمنی اور اس کا مکھڑا تکنے کے آرزو مند ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں، کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے، اور تو اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہے۔‘
(الکهف، 18: 28)
آیت کریمہ میں مذکور یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ کے دو معانی ہیں:
عالمانہ معنی تو یہ ہے کہ ان لوگوں کی رفاقت، معیت اور سنگت میں جم کر بیٹھ جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے اور ہر وقت اُس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں۔
عاشقانہ معنی یہ ہے کہ چونکہ ’وَجْہٌ‘ چہرے کو کہتے ہیں، اس لیے صوفیاء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن لوگوں کی سنگت میں جم جا جو صبح شام رب کو یاد کرتے ہیں، یہ لوگ رب کو دنیا اور جنت کے لیے یاد نہیں کرتے بلکہ صرف رب کے مکھڑے کے طلبگار ہیں۔
پھر فرمایا:
وَلَا تَعْدُ عَیْنٰـکَ عَنْهُمْ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰـوةِ الدُّنْیَا.
’کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے؟‘
(الکهف، 18: 28)
یعنی اُن کے چہرے پر توجہ مرکوز رکھ اور ان کی طرف سے نگاہیں نہ ہٹاؤ۔ ایسے لوگوں کے چہروں سے اگر نگاہیں ہٹ گئیں تو دنیا کے طالب بن جائو گے۔
آیت کریمہ کے آخری حصہ میں یہ حکم دیا جارہا ہے کہ جن لوگوں کے دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیے ہیں، ان کی اطاعت نہ کریں۔ یہ آیت کریمہ ’عبارۃ النص‘ ہے، اس سے ’اشارۃ النص‘ یہ ہے کہ ُان کی اطاعت کر جن کے دل ذاکر ہیں۔ یعنی غافلوں کے پیچھے نہیں بلکہ ذاکروں کے پیچھے چلا کریں۔ جو رب کے ذکر سے غافل ہے، اس کا قلب مردہ ہے، اُس کے پیچھے نہ جاؤ بلکہ قلب حییّ کے پیچھے جاؤ۔
قرآن مجید کے اس حکم کی تصریح فرماتے ہوئے آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
ألا أنبئکم بخیارکم.
’کیا میں تمہیں’خیار‘ بھلے لوگوں (اونچے درجے کے حاملین) کی خبر نہ دے دوں؟‘
یعنی جو تم میں بہت اچھے لوگ ہیں، میں تمہیں اُن کی پہچان نہ بتاؤں کہ یہ کون ہوتے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایئے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا:
خیارکم الذین إذا رؤوا ذکر اﷲ.
’اُن کی ایک پہچان یہ ہے کہ جب اُن کے چہروں کو دیکھو تو اﷲ یاد آجائے‘۔
(ابن ماجه، کتاب الزهد، باب من لا یؤبه له ج: 2، ص: 1339، رقم الحدیث: 4119)
جنہیں دیکھنے سے اﷲ یاد نہ آئے، انسان اور مسلمان ہونے کے ناطے ان کی عزت و احترام ضرور کریں، سلام کریں لیکن ان سے مریدی کا تعلق نہ بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’خیار‘ کی جو پہچان بیان فرمائی ہے، آج اسے پیمانہ بنانے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ مقصود اﷲ کی یاد دلانا ہے، اپنی یاد کرانا نہیں۔
سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ’غنیۃ الطالبین‘ میں مرید کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’جو ہر شے کو چھوڑ کر صرف اﷲ کا ارادہ کر لے، اُس کو مرید کہتے ہیں‘۔
یعنی مرید وہ ہے جو خالصتاً اللہ کا ارادہ کرے اور شیخ و مرشد وہ ہے جو ہر شے سے بندے کے قلب کا دھیان ہٹا کر اس کے دل کا تعلق صرف اﷲ سے جوڑ دے، جو شخص اللہ کے بجائے اپنا ارادہ کرائے، وہ سیدنا غوث الاعظم کی مذکورہ تعریف کے مطابق نہ مرید ہے اور نہ ہی شیخ و مرشد۔
افسوس! ہمارے concept خراب ہیں، ہمارا دھیان اﷲ کی طرف نہیں اور جس کی طرف ہم دھیان کرتے ہیں اُس کا دھیان ہماری جیب کی طرف ہوتا ہے۔ پیسے والا ہو تو اُسے قریب بٹھاتے ہیں، کھانے کھلاتے ہیں اور جب کوئی غریب مرید آجائے تو اس سے سلام لینا تک گوارا نہیں کرتے۔
ایک دفعہ بیرون ملک دورہ کے دوران میرے خطاب کے آخر میں ایک شخص نے سوال کیا کہ ہمارے ہاں یورپ میں کثیر تعداد میں کئی مشائخ اور پیرانِ کرام آتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ مارکیٹنگ مینجرز بھی لاتے ہیں جو اپنے اپنے پیروں کی کرامتیں سناتے ہیں اور ہر ایک اپنے پیر کے غوث، سلطان الفقر اور قطب ہونے کا دعویدار ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ مردِ کامل کون ہوتا ہے اور پیر کامل کون ہے؟ آپ اس کی کوئی پہچان بتائیں۔
میں نے کہا کہ پیر کامل کی بڑی سادہ سی پہچان یہ ہے کہ پیر کامل وہ ہے جسے مریدوں کی تلاش نہ ہو۔ علامہ اقبال نے کہا:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہے آفاق
حرص و لالچِ دنیا، عہدہ و منصب اور اس دنیا کے ٹکوں کے پیچھے مارے مارے پھرنا، مومن کے شایانِ شان نہیں۔ مومن اور دنیا کے رشتہ کی مثال بندے اور سائے کی سی ہے۔ جس طرح سایہ بندے کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے، اسی طرح بندۂ مومن جب دنیا کی طرف سے منہ موڑ کر چلتا ہے تو دنیا ایک سایہ کی طرح اس کے پیچھے چلتی ہے۔ پس مرشدِ کامل اور پیرِ کامل کی علامت یہ ہے کہ جو مریدوں کی تلاش میں مارا مارا نہ پھرے۔ جو مریدوں کی تلاش میں مارا مار ا پھرتا ہے وہ تو ابھی خود مریدوں کا مرید ہے، شیخ و مرشد کیسے ہوسکتا ہے؟ یعنی وہ تو ابھی مریدوں کا ارادہ کیے ان کے پیچھے پھرتا ہے، رب کا مرید کب بنے گا۔۔۔؟ اسے ابھی مریدوں کی تلاش ہے، رب کی تلاش کا سفر کب شروع ہو گا۔۔۔؟
ولایت اور ولی کا معنی و مفہوم
ولایت کے چار معنی ہیں اور اس رو سے ولی کے بھی چار معنی ہیں جو ذیل میں بیان کیے جارہے ہیں:
ولایت کا پہلا معنی ’محبت‘ ہے۔ اس لحاظ سے ولی محبت کرنے والے کو کہتے ہیں۔
ولایت کا دوسرا معنی ’قربت‘ ہے۔ اس رو سے ولی ’اقرب‘ یعنی قریب والے کو کہتے ہیں۔ ماں باپ ولی ہیں، دادا، نانا ولی ہیں۔ اس لیے اقرباء کو اولیاء کہتے ہیں۔
ولایت کا تیسرا معنی ’کفالت‘ ہے۔ مثلاً: جب کوئی کہتا ہے کہ فلاں فلاں کی ولایت میں ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی نگرانی میں ہے۔
ولایت کا چوتھا معنی مدد و نصرت بھی ہے۔ اس معنی کی رو سے ولی، مدد گار کو کہتے ہیں۔
ولایت کے مذکورہ چار معانی کی روشنی میں ہی ولی کا معنی متعین ہوتا ہے۔ ذیل میں ان معانی کی وضاحت درج کی جارہی ہے:
1۔ ولی: اللہ کا محب و محبوب بندہ
ولایت کے پہلے معنی ’محبت و مؤدت‘ کے لحاظ سے ولی وہ شخص ہے جس کی محبت خالصتاً اﷲ کے لئے ہو جائے اور نتیجتاً اﷲ بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:
یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗٓ.
’وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ‘۔
(المائدة، 5: 54)
معلوم ہوا کہ جب تک دو طرفہ رشتۂ محبت بین العبد و المعبود، بین الخالق و المخلوق قائم نہ ہو جائے، اس وقت تک بندہ اﷲ کا ولی نہیں بنتا۔ گویا جو بندہ خالصتاً اﷲ سے محبت کرے اور اس کی محبت کا مرکز و محور اﷲ کی ذات ہو جائے تو اس کو ولی کہتے ہیں۔
2۔ ولی: اللہ کا مقرب ترین بندہ
ولایت کے دوسرے معنی ’قربت‘ کے تناظر میں ولی کا معنی یہ ہوگا کہ جس شخص کو اﷲ اپنے قریب کر لے اور وہ بندہ اﷲ کے قریب ہو جائے یعنی دنیا سے اس کا دل دور ہو جائے، حرص، لالچ، دنیا کی رغبت، دنیا کی ہوس، حسد، کبر، بغض، عناد، دشمنیوں، غیبتوں، چغلیوں، لوٹ مار، گناہ، فسق و فجور، الغرض ہر شے سے اس کا دل دور ہو جائے اور ہر چیز سے دور ہو کر وہ ظاہراً و باطناً صرف اﷲ کے قریب ہو جائے۔
جب بندے کو ظاہر و باطن میں اﷲ کا قرب مل جاتا ہے اور اس کا قلب، نفس، روح، ظاہر، باطن اللہ کے قریب ہوجاتا ہے تو وہ قربتِ الٰہیہ کی وجہ سے اﷲ کا ولی ہو جاتا ہے اور پھر اﷲ بھی اس کے قریب ہو جاتا ہے۔ حدیث مبارک کے مطابق جب یہ بندہ ایک قدم اللہ کی طرف بڑھتا ہے تو اﷲ اس کی طرف اپنی شان کے لائق کئی قدم بڑھتا ہے۔ پس اﷲ کے اس قرب کی وجہ سے وہ بندہ ولایت کے مقام پر فائز ہوتا ہے۔
3۔ ولی: اللہ کی رضا پر راضی بندہ
ولایت کا تیسرا معنی ’کفالت اور سپردگی‘ ہے۔ اس معنی کی رو سے جو بندہ خود کو اﷲ کے سپرد کر دے، اپنی مرضی چھوڑ دے، اﷲ کی مرضی کو اپنے اوپر نافذ کر دے، اپنی ترجیحات کو ترک کر دے اور اﷲ کے امر اور شریعت کی ترجیحات کو غالب کردے، حلال و حرام، جائز و ناجائز اور اللہ کی رضا و ناراضی کو ہر قدم پر ملحوظ رکھے، اسے ولی کہتے ہیں۔
تمام امور میں اﷲ کے اوامر و نواہی اور معاملاتِ زندگی میں بندہ جب شریعت کے احکام کی پیروی اس طرح کرے کہ اپنی زندگی اﷲ کے امر کی نگرانی اور کفالت میں دے دے، خود سے فناء ہو جائے اور خود کو اﷲ کے امر کے سپرد کر دے تو اﷲ اس کا کفیل بن جاتا ہے۔
حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’بندے کو چاہئے کہ خود کو اﷲ کی کفالت، نگرانی میں اس طرح دے دے جیسے مُردہ غسّال کے ہاتھ میں ہوتا ہے‘۔
یعنی جس طرح غسّال میت کو نہلاتا ہے، اسے الٹا سیدھا، دائیں بائیں پلٹتا ہے، اس وقت اس مُردے کی مرضی نہیں رہتی بلکہ وہ مکمل طور پر غسّال کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اسی طرح بندہ بھی اپنے آپ کو اپنے مولیٰ کے سپرد کردے اور اُس کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اس کی تعلیمات و احکامات کو اپنے ہر معاملہ پر غالب کردے۔ اس لیے کہ مُردہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کی مرضی نہ رہے، جس کی اپنی حرکت اور ترجیح نہ رہے، غسّال جیسے چاہے، اپنی مرضی مُردے پر چلاتا ہے۔ گویا جب تک بندہ بشکلِ مُردہ اپنے آپ کو اﷲ کے امر کے سپرد نہ کردے، ولایت تک نہیں پہنچ سکتا۔
جب اللہ کا امر اس پر اس طرح چلے جیسے غسّال کا امر مُردے پر چلتا ہے تو اللہ کا امر چاہے اسے الٹائے یا پلٹائے، بیمار کرے یا صحتمند کرے، عزت دے یا عزت لے لے، نعمت دے یا چھین لے، وہ جس حال میں رکھے، بندہ اپنی مرضی کو فنا اور اﷲ کی مرضی کے ساتھ بقا ہو جائے تب وہ اللہ کی کامل کفالت اور نگرانی میں ہوتا ہے اور نتیجتاً کائنات کی ہر چیز اس بندے کی مطیع ہوجاتی ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبه فاذا احببته کنت سمعه الذی یسمع به و بصره الذی یبصربه و یده التی یبطش بها، ورجله التی یمشی بها.
’میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے‘۔
(صحیح بخاری، کتاب الرقائق، باب التواضع، ج: 5، ص: 2384، رقم: 6137)
اب چونکہ اس کے اپنے کان اور سماعت نہ رہی، لہذا اب وہ وہی کچھ سنتا ہے جو اﷲ اُسے سنانا چاہتا ہے اور جو بات اﷲ اُسے سنانا نہیں چاہتا، اس سے وہ بہرہ ہو جاتا ہے۔ وہ وہی کچھ دیکھتا ہے جو اﷲ دکھانا چاہتا ہے اور جس کو دیکھنے سے اﷲ نے روکا ہے، اس سے اس کی آنکھ ہی بند ہو جاتی ہے۔ الغرض اُس کے ہاتھ، پائوں اور دل تک اللہ کی رضا کے تابع ہوجاتے ہیں اور وہی امور سرانجام دیتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے۔ جب بندہ اس طرح کاملاً اﷲ کی کفالت و نگرانی میں آجائے اور اﷲ تعالیٰ اسے اپنی نگرانی میں لے لے تو اس مقام کو ولایت اور اس بندے کو ولی کہتے ہیں۔
4۔ ولی: اللہ کی مدد و نصرت کا حامل بندہ
ولایت کا چوتھا معنی ’نصرت و مدد‘ کے ہیں اور ولی مدد گار کو کہتے ہیں۔ ولی وہ ہوتا ہے جو اپنا مدد گار خود نہیں رہتا بلکہ اﷲ کی مدد سے جیتا ہے، اﷲ کی مدد سے رہتا ہے اور اﷲ اس کا مدد گار ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَهُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ.
’اور وہی صلحاء کی بھی نصرت و ولایت فرماتا ہے‘۔
(الاعراف، 7: 196)
ایک اور مقام پر فرمایا:
ذٰلِکَ بِاَنَّ ﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا.
’یہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ ان لوگوں کا ولی و مددگار ہے جو ایمان لائے ہیں‘۔
(محمد، 47: 11)
میرے شیخ قدوۃ الأولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شبیہ تھے اور ان کے فیض کے عظیم امین تھے۔ میں نے قول، عمل، ظاہر، باطن، عادت، طریق، مزاج، طبیعت، متابعتِ شریعت و سنت اور غیرتِ دین میں ان کو حضور غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کا عکس و نمونہ پایا۔ ایک روز مجھے فرمانے لگے کہ
’اللہ جب اپنے ولی کا مدد گار ہو جاتا ہے تو پھر بندہ اپنی مدد آپ نہیں کرتا۔ اﷲ جو چاہے کرے اور جو نہ چاہے، نہ کرے، بندہ کسی بھی حالت میں اس کا شکوہ نہیں کرتا۔ اﷲ کے بندہ اور ولی کی مثال ایک کلہاڑے کی سی ہے۔ کلہاڑا سارے جنگل کو کاٹتا ہے مگر اپنے دستے کو نہیں کاٹ سکتا، اس لیے کہ جب تک دستہ اس کلہاڑے کے اندر ہے، اُسے اس ہی کے ذریعہ نہیں کاٹا جاسکتا۔ جس طرح کلہاڑا اپنا دستہ خود نہیں کاٹ سکتا، اسی طرح ولی اﷲ باقی پورے عالم کا مددگار ہوتا ہے مگر اپنی ذات کا مدد گار نہیں رہتا۔ وہ خود اگر بیمار ہو گا تو خود کو دم نہیں کرے گا بلکہ اﷲ کی مشیت پر چھوڑ دے گا اور طریقِ سنت پر عمل کرے گا اور علاج کروائے گا جبکہ باقی سارے بیماروں کو اس کے ایک دم سے اللہ شفا یابی دیتا رہے گا۔ اسی طرح اگر وہ خود فاقے میں ہے تو کئی دن فاقے میں گزار دیتا ہے لیکن اپنے لئے روحانی توجہات سے اسباب حاصل نہیں کرے گا لیکن اگر لوگ فاقہ کی حالت میں اس کے پاس آئیں گے تو اس کی دعا سے ان کی تقدیریں بدلتی رہیں گی۔ یعنی ولایت کا مطلب ہے کہ بندہ اپنا مدد گار خود نہیں رہتا، بلکہ اللہ اس کا مددگار ہو جاتا ہے۔
آقا علیہ السلام کی مجلس میں کوئی شخص سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ خاموشی سے بیٹھے رہے اور اس کو کوئی بھی جواب نہ دیا۔ آقا علیہ السلام سرِ انور نیچے کرکے مسکراتے رہے۔ کچھ دیر گزری تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی اس شخص کی بات کا جواب دیا۔ اس پر آقا علیہ السلام اس مجلس سے اٹھ کر گھر تشریف لے آئے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ شاید میرے جواب دینے کو آقا علیہ السلام نے ناگوار محسوس فرمایا، اس لیے مجلس سے چلے آئے ہیں۔ پوچھا: یارسول اﷲ! کیا ماجرا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے آئے؟ آقا علیہ السلام نے فرمایا:
ابو بکر! جب تک وہ شحص تمہیں گالیاں دے رہا تھا اور تم خاموش تھے، یعنی اپنا دفاع خود نہیں کر رہے تھے، اپنی مدد خود نہیں کر رہے تھے تو اﷲ نے فرشتوں کو مقرر کر رکھا تھا اور وہ تمہاری طرف سے جواب دے رہے تھے۔ میں فرشتوں کے اس جواب کو سن کر مسکرا رہا تھالیکن جب تم نے اس شخص کی ایک بات کا جواب دیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب یہ خود اپنا کفیل ہوگیا ہے، اپنا دفاع خود کرنے لگ گیا ہے لہذا فرشتو! تم واپس آجاؤ۔ پس اس پر میں دُکھی ہوکر گھر چلا آیا۔
سمجھانا یہ مقصود ہے کہ اﷲ کا ولی اگر اپنا دفاع خود کرے تو اﷲ اس کے دفاع اور مدد سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ اس لئے اﷲ کا ولی اپنا دفاع اور مدد خود نہیں کرتا، لوگ جو چاہیں کریں، وہ خاموش رہتا ہے۔ اس صورت حال میں رب خود اس کا دفاع بھی کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کا اعلان بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے ولی کا دل ہر وقت دعا گو ہی رہتا ہے، ولی ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے، دعا دیتا ہے، کسی سے غیض و غضب نہیں کرتا۔
امام ابو القاسم القشیری رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو علی الجرجانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ وہ فرماتے ہیں:
ولی وہ ہے جو اپنے حال اور جان سے فنا ہو جائے اور مشاہدۂ حق میں اس کو بقاء نصیب ہو جائے یعنی وہ اپنے معاملات کا خود حاکم اور متصرف نہیں ہوتا بلکہ توکل اور تفویض کے اس درجے پر پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے معاملات سے علی طریق التوکل، علی طریق الرضا، علی طریق التفویض فنا ہو جاتا ہے۔ اپنی پسند و نا پسند کو فنا کر دیتا ہے، کسی کی کوئی چغلی، شکایت، نفس کی اشتعال انگیزی، کسی پر کیچڑ اچھالنا، کسی کے اوپر گفتگو اور نقدو جرح کرنا، یہ صوفیا اور اولیاء کا کام نہیں ہے بلکہ یہ نفس اور شیطان کا کام ہے۔ جب ولی اپنے حال سے فانی ہوگیا تو اسے اب کسی پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ کسی کے بارے تجسس نہیں کرتا بلکہ اللہ کے مشاہدہ، امر اور اس کی رضا میں باقی ہوتا ہے۔
یہاں تک کہ اللہ اس کے تمام امور کی نگرانی اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ اللہ اس کے امور کی نگرانی اس طرح فرماتا ہے کہ اُسے اپنے احوال کی خبر نہیں رہتی اور وہ کسی اور جگہ قرار نہیں پاتا، اس کی طبیعت پنجرے میں بند پرندے کی طرح تڑپتی رہتی ہے۔
علاماتِ اولیاء
اولیاء و صوفیاء سے پوچھا گیا کہ ولی کی کیا علامت ہے؟ تو کبار اولیاء نے فرمایا:
علامة الولی ثلاثة: شغله باﷲ وفراره الی الله وهمه ﷲ.
اولیاء کی علامتیں تین ہیں:
شغلہ باللہ: جس کا قلب و باطن، روح، ارادہ، خیال، توبہ، محبت اور دھیان ہر وقت اﷲ کے ساتھ مشغول رہے۔ اﷲ کے سوا اس کا دل اور ذہن کسی اور سے مشغول نہیں ہوتا۔ لہذا جب کسی سے مشغول نہیں ہوگا تو رذائلِ اخلاق غیبت، چغلی، حسد، مسابقت، نفرت، تہمت، الزام تراشی، حرص، طمع، کبر، نخوت، لالچ سے محفوظ رہے گا۔
وفرار الی اﷲ: اس کا دل زہد عن الدنیا سے ایسا مالا مال ہوتا ہے کہ دل ہر شے سے بھاگ کر اﷲ کی طرف راجع ہو جاتا ہے۔ اﷲ کے تعلق کے سوا اسے سکون نہیں ملتا، اﷲ کے انس کے سوا اسے قرار نہیں ملتا اور اﷲ کے وصال کے سوا اسے اطمینان نہیں ملتا۔
وھمہ ﷲ: اس کا فکر و خیال اور ارادہ و ہمت ہر وقت خالصتاً اﷲ کے لئے رہتی ہے۔
ولایت اور صفائے قلب کا حصول
حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بندہ اگر یہ مقام چاہتا ہے کہ اُسے اﷲ کی دوستی اور صفائے قلب نصیب ہوجائے تو:
کن مع ﷲ بلا خلق و کن مع الخلق بلا النفس.
’تصوف میں اعلیٰ درجہ اور ولایت یہ ہے کہ اﷲ کے ساتھ معاملہ ایسا ہو کہ مخلوق درمیان میں نہ رہے اور مخلوق کے ساتھ معاملہ ایسا ہو کہ نفس درمیان میں نہ رہے‘۔
یعنی اﷲ کے معاملے سے اگر مخلوق درمیان میں سے نکل جائے اور مخلوق کے ساتھ معاملے میں نفس، ’میں‘ نکل جائے تو بندہ ولی ہو جاتا ہے۔ اگر اﷲ کی رضا کے لیے ہم کسی پر احسان کریں تو درمیان سے مخلوق اس طرح نکل جائے کہ اب جس پر احسان کیا گیا ہے بھلے وہ ہمیں گالی دے لیکن ہماری طبیعت میں ملال نہ آئے، اس لیے کہ ہم نے مخلوق کے لئے اس پر احسان نہیں کیا۔ جب اللہ کی رضا کے لیے کسی کے ساتھ بھلائی کی تو اس کی زیادتی سے ہمیں رنج نہیں ہونا چاہئے، اس لیے کہ ہم نے مخلوق کے لئے نہیں بلکہ اﷲ کے لئے اس پر احسان کیا۔ الغرض اﷲ کے ساتھ جو معاملہ کیا، اس میں مخلوق نظر نہ آئے اور اگر کوئی معاملہ مخلوق کے ساتھ کیا تو درمیان میں نفس نہ آئے تو اس کو ولایت کہتے ہیں۔
مقامِ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ
جب ہم ولایت کے مذکورہ تمام معانی و مفاہیم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس حوالے سے حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آسمانِ ولایت پر سب سے بلند و ارفع ستارے کی مانند چمکتے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم اکثر حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے ان اقوال اور کرامات کو بیان کرتے ہیں جو صوفیاء و اولیاء کی کتابوں میں ہیں مگر یہ امر ذہن نشین رہے کہ محدثین، فقہاء اور ائمہ علم نے بھی تواتر کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے علمی و روحانی مقام کو بیان فرمایا ہے۔ صرف عقیدت مندوں ہی نے آپ رضی اللہ عنہ کا یہ مقام نہیں بنارکھا بلکہ جلیل القدر ائمہ علم، ائمہ تفسیر اور ائمہ حدیث نے بھی اسے بیان کیا ہے۔
امام یافعی الشافعی لکھتے ہیں کہ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی کرامات کے تواتر پر اجماع ہے اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا۔
اسی طرح امام ابو الحسن علی بن جریر الشافعی، ملا علی قاری، امام ذہبی اور دیگر ائمہ نے بھی آپ کے علمی و روحانی مقام کو بیان کیا ہے:
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نہ صرف خود محدث، مفسر اور امام تفسیر ہیں بلکہ آپ کے دس کے دس صاحبزادے وقت کے عظیم محدث اور فقیہ ہوئے۔ آپ کے نہ صرف صاحبزادے بلکہ پوتے، پوتیاں اور پڑپوتے پڑپوتیاں بھی محدث ہیں۔ صاحب کلائد الجواہر نے اپنی زندگی میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے 12 پشتوں تک کے احوال کا مطالعہ کیا، وہ لکھتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کی بارہ پشتوں تک کے افراد میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی عظیم مفسرین، محدثین، فقہاء اور ائمہ علم ہوئی ہیں۔ یعنی اتنا علم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سرکارِ غوث پاک کی اولاد نے ان کے فیض سے تقسیم کیا ہے۔
آپ کی مجلسِ درس میں تین سو سے زائد کبار اولیاء موجود ہوتے اور سینکڑوں کی تعداد میں رجال الغیب موجود ہوتے۔ آپ نے امرِ الٰہی کے تحت جب یہ ارشاد فرمایا:
قدمی هذه علی رقبة کل ولی اﷲ.
’میرا یہ قدم روئے زمین کے ہر ولی کی گردن پر ہے۔‘
آپ رضی اللہ عنہ کے اعلان کے وقت جتنے اولیاء آپ کی مجلس میں موجود تھے انہوں نے نہ صرف اپنے سروں کو جھکا کر اطاعت کا اعلان و اظہار کیا بلکہ اس وقت روئے زمین پر جتنے بھی اولیاء و صلحاء موجود تھے، انہوں نے بھی اپنے اپنے مقامات پر آپ رضی اللہ عنہ کی ولایتِ کبریٰ کے سامنے سرِتسلیم خم کیا۔
آپ رضی اللہ عنہ کے اس اعلان پر حضرت علی بن الحیطی رحمۃ اللہ علیہ نے عملاً اپنا سر نیچے کر کے آپ کا پائوں اپنی گردن پر رکھ لیا اور تمام اولیاء نے گردنیں جھکا دیں۔
امام علی بن البرکات بیان کرتے ہیں کہ میرے عم بزرگ امام عدی بن المسافر بیان کرتے تھے کہ اولین و آخرین اولیاء میں سے قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ کہنے کا امر سوائے حضرت عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے کسی کو نہیں ہوا کیونکہ آپ کا ولایت میں مقام مقامِ فرد تھا۔
سلسلہ رفاعیہ کے شیخ امام رفاعی رحمۃ اللہ علیہ نے صراحتاً فرمایا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سواء کسی کو یہ امر نہ تھا۔ آپ جب امرِ الٰہی سے یہ اعلان فرما رہے تھے تو اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ کثرتِ کرامات میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے طریق سے ہٹ کر کسی شخص کو ولایت نصیب نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اولیاء کے جملہ طرق اور سلاسل حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے فیض سے فیضیاب ہوئے۔
اللہ کا ولی سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتا ’لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْن‘ کا فرمان الہٰی ان کی زندگی کے ہر پہلو پر نمایاں نظر آتا ہے۔ انہیں کسی کا طمع اور لالچ نہیں ہوتا۔حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بنو عباس کے خلفاء حکمران رہے۔ آپ ان حکمرانوں کے غلط کاموں پر فوراً گرفت فرماتے اور ان کی اصلاح فرماتے۔ ان حکمرانوں سے کسی بھی قسم کا کوئی خوف کبھی آپ کے دامن گیر نہ رہا۔ آپ خطاب کے دوران منبر پر ان خلفاء کو ’یا نخل‘، (اے کھجور کے تنے) کہہ کر مخاطب فرماتے، یعنی آپ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ آپ ان سے کلیتاً بےنیاز رہتے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو کسی ایک دن بھی کسی بادشاہ یا حکمران کے در پر نہیں دیکھا گیا بلکہ خلفا آپ کی مجلس میں سائل بن کر بیٹھتے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان حکمرانوں کی اصلاح کرتے ہوئے فرماتے:
یا نخل لا تتعدی، اقطع رأسک.
’اے کھجور کی شاخ! حد سے نہ بڑھ، میں تمہارا سر قلم کر دوں گا۔‘
آپ کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ خلیفہ المستنجد باللہ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں آیا اور آپ کا وعظ سنتا رہا، جب اختتام ہوا تو آگے بڑھا اور بیس تھیلیاں دینار آپ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
انہیں لے جاؤ، مجھے ان کی حاجت نہیں ہے۔ اس نے جب بہت اصرار کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دو تھیلیاں ہاتھ میں اٹھا لیں اور انہیں ہاتھ میں اٹھا کر نچوڑا تو دینار کی بھری ہوئی دونوں تھیلیوں سے خون ٹپکنے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اگر مجھے کئی امور کا حیا نہ ہوتا تو میں انہیں اتنا نچوڑتا کہ یہ خون تمہارے محلات تک پہنچ جاتا۔ ظالم تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور غریب لوگوں اور رعایا کا خون چوستے ہو، ان کا مال لوٹتے ہو اور ان کا نذرانہ بنا کر میرے پاس لے آتے ہو۔
یہ حضور غوثِ اعظمص کی ولایت کا مقام ہے کہ ماسوا اللہ سے بے نیازی اور بے خوفی آپ کا طرہ امتیاز تھا۔
تعلیماتِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ
سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ تصوف کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
بندے تو شوق اور اشتیاق سے اللہ کو یاد کر، وہ تجھے تقرب اور وصال سے یاد کرے گا۔ تو حمد و ثنا سے اسے یاد کر، وہ تمہیں انعام و احسان سے یاد کرے گا۔ تو اسے توبہ سے یاد کر، وہ تجھے بخشش سے یاد کرے گا۔ تو اسے ترکِ غفلت سے یاد کر، وہ تجھے ترکِ مہلت سے یاد کرے گا۔ تو اسے ندامت سے یاد کر، وہ تجھے کرامت سے یاد کرے گا۔ تو اسے معذرت سے یاد کر، وہ تجھے مغفرت سے یاد کرے گا۔ تو اسے اخلاص سے یاد کر، وہ تجھے نفس سے خلاصی سے یاد کرے گا۔ تو اسے تنگ دستی میں یاد کر، وہ تجھے فراخ دستی سے یاد کرے گا۔ تو اسے فنا ہوکر یاد کر، وہ تجھے بقا دے کر یاد کرے گا۔ تو اسے صدق سے یاد کر، وہ تجھے رزق سے یاد کرے گا۔ تو اسے تعظیم سے یاد کر، وہ تجھے تکریم سے یاد کرے گا۔ تو اسے ترکِ خطا سے یاد کر، وہ تجھے بخشش و عطا سے یاد کرے گا۔
توکل کی تعلیم دیتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’اے بندے تو تمام اغیار کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ سے لو لگا لے اور ظاہری اسباب کو بھول کر مسبب میں گم ہو جا۔ وہ مسبب تجھے اسباب سے بالاتر و بے نیاز کر دے گا‘۔
یہ مقامِ توکل ہے اور توکل کا مقام حقیقتِ اخلاص کے بغیر نہیں ملتا اور حقیقتِ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ عمل کرے مگر کسی عمل کا معاوضہ اور اجر و جزا طلب نہ کرے۔ بندہ جب تک دنیا اور آخرت کے ہر معاوضے سے آزاد نہ ہوجائے، اس کا قلب و باطن اللہ تعالیٰ سے متصل نہیں ہوتا۔
سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے الفتح الربانی میں ارشاد فرمایا:
لوگو! تمہارے اندر نفاق بڑھ گیا ہے اور اخلاص کم ہو گیا، اقوال بڑھ گئے اور اعمال کم ہو گئے ہیں اور جس میں نفاق بڑھ جائے، اخلاص کم ہو جائے تو وہ بندے قربِ حق کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں‘۔
سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے بغداد کے منبر پر ستر ہزار افراد، صلحا اور سامعین کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’لوگو! یہ دنیا ایک بازار ہے تھوڑی دیر کے بعد اس بازار میں کوئی باقی نہیں رہے گا۔ دکانیں بند ہونے کو ہیں، یہ جو چہل پہل بازارِ دنیا میں نظر آ رہی ہے، نہیں رہے گی۔ لوگو! تم اس دنیا کے بازار سے وہ سودا خریدو جس کی آخرت کے بازار میں ضرورت ہے۔ اس لیے کہ اس بازار کے بند ہونے کے بعد ایک اگلا بازار کھلنے والا ہے‘۔
اس دنیاوی بازار میں کہیں شہواتِ نفسانی کا سامان پڑا ہے، کہیں لذاتِ بدنی کے سامان ہیں، کہیں تکبر، حرص، نفس، لالچ، طمع، بغض اور عداوت کی دکان ہے اور کہیں غیبت، نفاق، دنیا طلبی، فسق و فجور، بربادی، زنا، چوری، گناہ، کذب اور منافقت کی دکانیں ہیں۔ الغرض یہاں ساری نافرمانیوں، معاصی اور گناہوں کی دکانیں سجی ہیں۔
آج انسان اِن کی خریداری کرتا ہے، اسے نہیں معلوم کہ جب اگلے بازار میں جائے گا اور اس سودے کو بیچنا چاہے گا تو وہاں تو خریدار اللہ ہے، یہ سودا وہاں فروخت نہیں ہوگا اس لیے کہ اللہ کو یہ سودا نہیں چاہیے۔
وہاں کا سودا یہ ہے کہ وہ خریدار (اللہ) یہ چاہتا ہے کہ دنیا سے قیام اللیل اور رات کے اندھیرے میں سجدوں کا سودا لے کر جاؤ۔۔۔ توبہ، گریہ و زاری، تقویٰ، زہد اور ورع کا سودا لے کر جاؤ۔۔۔ یقین، توکل، اللہ کی اطاعت، عبادت بندگی، پرہیزگاری، ترکِ گناہ و معصیت کا سودا لے کر جاؤ۔۔۔ آقاa کی غلامی، اتباع، متابعت اور محبت کا سودا لے کر جاؤ۔۔۔ الغرض وہ سودے خریدو اور وہ سامان لے کر جاؤ کہ اگلے بازار کے کھلتے ہی وہاں کا خریدار اسے لے لے، ورنہ حسرت کے ساتھ تکتے رہ جاؤ گے اور سودا نہیں بکے گا۔
حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’لوگو! اپنے قلوب کی اصلاح کر لو۔ افسوس! تم وعظ اور ذکر کی مجلسوں میں سیر کرنے کے لیے آتے ہو، علاج و معالجہ کے لیے نہیں آتے۔ مذاق اڑانے، ہنسنے اور کھیلنے آتے ہو، رونے نہیں آتے‘۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
’اپنی عادت کے قیدی نہ بنو، یہ قید تمہیں آزادی کے مرتبے سے دور لے جائے گی۔ پہلے اپنے نفس کو نصیحت کرو تاکہ دوسروں کو نصیحت کرنے کے قابل ہو سکو‘۔
خود جو ڈوبا جا رہا ہو وہ کسی اور کو کیا بچائے گا۔ جو خود نابینا و اندھا ہو، وہ راہ دکھانے کے لیے کسی اور کا ہاتھ کیا تھامے گا۔ دریا سے ڈوبنے والوں کو وہی نکال سکتا ہے جو خود ڈوبنے سے بچا ہوا ہو۔ اللہ کی طرف لوگوں کو وہی پہنچا سکتا ہے جو خود معرفت حاصل کر چکا ہو۔ راستہ وہی بتا سکتا ہے جو سیدھے راستے پر خود جا رہا ہو۔
توحید و شرک کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
بندے تجھ پر افسوس کہ تیری زبان پر توحید ہے اور تیرے قلب کے کوٹھے میں شرک ہے۔ تیری زبان پر تقویٰ ہے اور تیرے دل کے کوٹھے کے اندر فسق و فجور ہے۔ ظاہر و باطن کو ایک کر لے۔ اگر ظاہر و باطن ایک ہو جائے تو اس ظاہر و باطن کی موافقت کا نام ولایت ہے۔ اسی موافقت کا نام تصوف اور فقر ہے۔
حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص آپ رضی اللہ عنہ کا مرید بھی نہ ہو، آپ سے بیعت بھی نہ کر سکا ہو، آپ سے خرقہ بھی نہ پہن سکا ہو یعنی یہ تقاضا بھی پورا نہ کیا ہو مگر آپ سے محبت کرے اور آپ کا ارادہ رکھے تو اس کا حال کیا ہو گا؟ فرمایا:
’جس نے میرے ہاتھ پر بیعت بھی نہیں کی اور جس نے میرا خرقہ بھی نہیں پہنا مگر مجھ سے محبت اور اخلاص کے ساتھ اور میری تعلیمات پر عمل کے ساتھ میری طرف ارادہ کیا، قیامت کے دن وہ میرے مریدوں میں شامل ہو گا‘۔
صاحب کلائد الجواہر فرماتے ہیں کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہاں تک فرمایا کہ کوئی میرے مدرسہ کے سامنے سے گزر جائے اور محبت کی ایک نگاہ سے میرے مدرسہ کے در و دیوار کو دیکھ لے تو قیامت کے دن اللہ اس کے عذاب میں بھی تخفیف کر دے گا۔
اپنے ساتھ محبت کرنے والوں اور مریدین کی دست گیری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لو کان مریدی فی المشرق وانا بالمغرب لسترته.
’اگر میرا مرید مشرق میں ہو اور اس کا ستر کھل جائے اور میں مغرب میں ہوں تو میں مغرب میں ہو کر بھی مشرق میں موجود اپنے مرید کی ستر پوشی کروں گا‘۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
’جو میرے ساتھ منسلک ہیں اور میرے ساتھ ان کی نسبت ہے اور میرے طریق پر چلتے ہیں، میری تعلیم پر عمل کرتے ہیں تو میں ہمہ وقت ان کی بخشش اور مغفرت کے لیے اللہ کے حضور التجائیں کرتا رہتا ہوں اور ان کے لیے وسیلہ بنتا رہتا ہوں‘۔
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور جمیع اولیاء و صوفیاء کے اقوال، تلقینات اور تعلیمات کا مضمون اصلاحِ ظاہر و باطن ہی ہے۔ اس لیے کہ ایک ہی نور سے یہ ساری شمعیں روشن ہیں۔
حقیقتِ ولایت اور تعلیماتِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے حوالے جو کچھ بیان کیا گیا، یہ کل تصوف کا نچوڑ ہے اور تمام اولیاء خواہ اُن کا تعلق کسی بھی سلسلۂ طریقت سے ہو، اسی تصوف و روحانیت کے امین ہیں اور تمام حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے فیض سے ہی مستفیض ہورہے ہیں۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔