[03:19, 11/25/2022] Malik O Aaqa New
حضرت علی کی عدالت میں ایک مقدمہ آیا کہ دو صحابی سفر میں تھے ایک کے پاس دو روٹی تھیں دوسرے کے پاس ایک۔دسترخوان لگا ایک روٹی والے بولے تو ایک کھا میں دو کھاونگا جواب ملا پاگل ھوگئے ھو میں دو لایا ھوں دو کھاونگا۔مقدمہ کا فیصلہ حضرت علی نے کیا دیا ھوگا ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺗﯿﻦ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ ، ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺗﯿﻦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻓﯿﻖ ﮐﯽ ﭘﺎﻧﭻ ، ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺎﺣﺼﮧ ﺩﯾﺎ ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﯿﻦ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﺗﯿﻦ ﺟﮕﮧ ﮐﺌﮯﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ 9 ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ 15 ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ24 ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻓﯽ ﮐﺲ 8 ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺗﻢ ﻧﮯ 9 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﭨﮫ ﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺭﻓﯿﻖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ 15 ﭨﮑﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 8 ﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ 7 ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﺋﯿﮯ ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﯿﮯ 8 ﺩﺭﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ 7 ﮐﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻓﯿﻖ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺟﮭﮕﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯿﺎ۔(استیعاب ، 3 / 207 ملخصاً)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔