Thursday, October 27, 2022

تصوف کیا ہے؟

0 Comments


تصوف کیا ہے ، ؟

تصوف ،

علم القلب ہے

علم الوجود ہے

علم الفنا ہے

علم البقا ہے،

علم الیقین ہے

علم الادب ہے

علم الحب ہے

علم العشق یے،

علم الطریقت ہے،

ت ص و ف۔ تصوف

ت،  توبہ

ص، صفائی

و،  ولایت

ف، فنا فِى الله

تصوف کی دربار میں پہلے توبہ لازم ہے، توبہ کے بعد قلب کی صفائی کی ضرورت ہے،

غصہ ، حسد ، لالچ ،

یہ تین بڑے اسباب ہیں جو ظُلمتوں کے دروازے کھولتے ہیں ان کو من سے نکال کر پهينک دیجیے،

دل اور قلب میں بہت بڑا فرق ہے،

دل دھڑکتے ہوئے لوتھڑے کو کہتے ہیں قلب دل کے اندر کے حصے کو کہتے ہیں جو پاک ہے جہاں امرِ ربی کا مسکن ہے،

جو روح کی آماجگاہ ہے،

حق موجود،

سدا موجود،

کی صدائیں قلب کے اندر کی آوازیں ہیں،

دل  اور قلب کو اس طرح سمجہیں کہ جیسے سر اور دماغ، سر دماغ نہیں ہو سکتا سر  کے اندر دماغ کی وسیع دنیا ہے اسی طرح دل کے اندر قلب کی وسیع ترین دنیا  خالق نے تخلیق کی ہے،

قلب کی صفائی کے بعد ہی رب کی ولایت ملتی ہے

پھر جو رب کا ہوگیا تو سب اس کا ہوگیا،

ولایت کے بعد فنا فللہ کا درجہ ہے

جو حکم آقا بندہ حاضر ہے،

اس کے بعد رازوں کی مخفی دنیا آشکار ہوگی جس کے لیے پردہ لازم ہے، ورنہ موجبِ سزا ہوسکتا ہے،

پھر درجات در درجات رتبے شُکر اور صبر کی چادر ملتی ہے

جس نے برداشت کیا تو پھر انعام میں،

بقا ہی بقا،

تصوف،

اپنی پہچان میں رب کی پہچان جاننا،

اپنے کردار میں امرِ ربی کی بجا آوری،

محبت کا پرچار،

نفرت کا علاج پیار سے،

انتقام کا کبھی سوچنا تک نہیں،

معافی اور درگزر کا بچھونا،

سکونِ قلب کا پرچار

روح کی بقا کا رخ مرکز کی طرف محمدِ عربی کی طریقت کی طرف موڑنا،

مسلسل غور وفکر خود کی زات سے انا، تکبر، اور میں کی غلاظت کو دھوتے رہنا،

تصوف کوئی فرقہ اور عقیدہ نہیں ہے یہ وہ سادہ راستہ ہے جو محبت، درگز، اور عاجزی کے زریعے دلوں کو فتح کے گُر سکھاتا ہے،

تصوف رویہ ہے جس کی پوشاک عاجزی ہے اس پوشاک کو مسلسل پہنے رکھنا اصل صوفی کہلاتا ہے، بندے کے اعمال کو حقیقی رخ (مرکز) کی طرف موڑتا ہے، اور نیتوں میں رب کی رضا شامل کرنا، عمل سچے ولیوں کی طریقے پر رکھنا،

تصوف عشق کی ابتدا ہے

تصوف ادب کی انتہا ہے،

تصوف سادہ لفظوں میں

رب کو اپنی زات میں اور کائنات کے رنگوں میں ڈھونڈنا اور شریعت پر چلتے ہوئے ہر مخلوق کو امرِ ربی سمجھ کر ان کا احترام کرنا،

انسانوں کے مسائل کو سلجھانا، انہیں حل کرنا،

تصوف وہ سیڑھی ہے جو نسبتِ رسول اللہ سے مظبوط رشتہ استوار کرتی ہے، جس کے ذریعے ربِ کائنات کی حقیقی بقا کا رستہ ملتا ہے،

تصوف  عاجزی کا وہ بستر ہے جس پر سارے خواب حقیقتوں سے گزر کر رازوں کی دنیا میں  پہنچاتے ہیں، جہاں فقط حق کی اور سچ کی سرشاری اور حکمرانی ملتی ہے،

تصوف رویوں اور احساس میں مٹھاس پیدا کرنے کا نام ہے،

تصوف  تزکیہ نفس کا وہ طریقہ ہے جس سے نفسانی خواہشات میں عدل کرنا جو شریعت میں  جائز ہیں انہیں لاگو کرنا جن میں گندگی غلازت ہے انہیں زات سے پاک کرکے  دھیان رب کی طرف کرنا تاکہ معرفت مل سکے،

تصوف کے سفر میں مقابل کوئی اور نہیں خود اپنی زات کی ضد ہوتی ہے،

تصوف  میں عشق کی حدیں جب ملتیں ہیں تو پھر تو تو نہ رہا میں میں نہ رہا طالب  اور مطلوب کی سرحدیں مل جاتی ہیں اور یقین کی منزلیں طے ہو جاتی ہیں،صوفی جب تک مٹی سے محبت نہیں کرے گا تب تک رازِ حیات رموزِ کائنات اور رب کا حق موجود نہیں پا سکے گا۔مٙٹی گندگی نہیں امِرت ہے جتنا مٙٹی سے دوری رہے گی انا کو تقویت ملے گی، انا کو مٹانے کے لیے مٹی کا مٹی میں ملنا لازم ہے، تصوف عشق کی وہ حد ہے جہاں رقیب کوئی نہیں جہاں ہر مطلوب ایک دوسرے سے محبت اور خیرخواہی کرتا ہے تاکہ محبوب راضی ہوسکے، صوفی (صفائی کرنے والا) اسے کہیں گے جو معرفت کے راستے کا ہر گھڑی متلاشی رہے،

خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے رب کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چُنا ہے۔ 

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔