Saturday, May 18, 2024

ELM E SAHAFAT - 17 MAY 2024

0 Comments

علم صحافت کورس

 [18:38, 5/17/2024] Anees Nizami: Anees-ur-Rehman Amini

[18:40, 5/17/2024] Wasem Nizami: بھیج رہا ہوں مالک

[18:41, 5/17/2024] Jaziratul Arab: با ادب باملاحظہ

 نائب سوئم مدیر و صحافی حضرت  خواجہ وسیم صدیقی آج سے سات روزہ مشقی علم صحافت

کورس کرائینگے۔

معلم کا ادب مرشد کا ادب

معاونہ۔ڈی سی شیزہ

[18:43, 5/17/2024] Jaziratul Arab: اس کورس کا امتحان اگلے اتوار 19مئی کو ھوگا۔


WhatsApp Audio 2024-05-17 at 18.51.07---علم صحافت--علم صحافت میں شک اور یقین کا معاملہ

WhatsApp Audio 2024-05-17 at 18.58.22---علم--صحافت---پارٹ 2---خبر کو پھیلانے سے قبل تصدیق


[19:13, 5/17/2024] Jaziratul Arab: حضرت عیسی کے صحافی حواری کہلائے

قال عیسی ابن مریم من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصاراللہ *

[19:16, 5/17/2024] Jaziratul Arab: یہ وہ صحافی تھے جو خبر دھلی دھلائی پیش کرتے تھے متی لوقا یوحنا برناباس پطرس انھوں نے چھان پھٹک کے خبر رسانی کی بنیاد ڈالی ان کے نام پہ انجیل کے سیپارے بھی ھیں

[19:18, 5/17/2024] Jaziratul Arab: یعنی ایڈیٹوریل صحافت 2024سال پرانی ھے اسی کو فروغ دیا حضرت علی رض نے صفہ سے اور عمر رض نے دیوار کعبہ سے ھر ھفتے اخبار جاری ھوتا تھا

[19:19, 5/17/2024] Jaziratul Arab: اب سنو درس صحافت بطور عبادت

[19:19, 5/17/2024] Bhabi AFSHEEN: Masha Allah  kia bat ha baba Jan ki

[19:20, 5/17/2024] Nayyar.Nizami🫡🫡: بہترین آگہی دی علم صحافت کے بارے میں ماشاء اللّٰہ🫡 

نیرہ امینی

[19:22, 5/17/2024] Jaziratul Arab: کائنات کے سب سے پہلے صحافی جبرائیل ع نے آدم ع کو ساحل جدہ شریف پہ خط ء رمل میں اخبار لکھنا سکھایا یہ وہ اخبار تھا جو سن رائز سن سیٹ پہ جاری ھوتا تھا طلوعی لہریں پچھلے غروبی اخبار کو ڈیلیٹ کرکے نیا ساحل ء اخبار نویسی چھوڑجاتی تھیں

[19:25, 5/17/2024] Jaziratul Arab: اس اخبار کا نام نباء

[19:25, 5/17/2024] Jaziratul Arab: اسی پہ سورہ نباء اتری

[19:26, 5/17/2024] Jaziratul Arab: حضور ص نے اعلان کیا جس نے سورہ نباء کی تلاوت سیکھ لی اس نے پورا قران سیکھ لیا





[22:12, 5/17/2024] Jaziratul Arab: 



انتظار ء یار کی

 گھڑیاں گنی نہیں

بس اتنا یاد ھے 

کہ۔ترا انتظار تھا


مفتی شعیب نے بھی 

نبھائی ھیں مسندیں

صحرائے عشق میں

یہی اک دشت یار تھا

 اور پھر امین صابری

تعبیر گر مرا

صابر پیا کے جام میں جسکا خمار تھا


طہ کے علم و فضل سے باقی تھے کچھ سبو


ساقی کا عذر ء خاص 

یہی روزگار تھا


یہ پنجتن ھیں

 مسند ء ارشاد

 کے اوتاد


تخت ء علوم

 ان سے بہت 

استوار تھا





0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔