سالِ نو اور سوچ چکّی
سمندر دوش پر یہ قید خانہ اتھاہ گہرائیوں میں گُم یہ سوچیں ---------- ہجومِ انجماں میں چاند تنہا ہجومِ مخلصاں میں کون تنہا؟ ---------- نیا سال آگیا !کس سوچ میں ہو گزشتہ ہر برس کے امتحان میں ---------- تمھیں ناکامیوں نے آگے گھیرا کہ تم کو کامیابی بھی ملی کچھ؟ ---------- بحمداللہ بکثرت کامیابی! وہ آخر چھ برس سابق صدی کے اور اب تیئس برس حاضر صدی ---------- | یہ کل انتیس برس کا امتحان تھا کہ سر پر تاج کانٹوں کالگا تھا میرے خواجہ نے اُس عید ِمسیح پر پس ِ دستار بندی کیا کہا تھا؟ ---------- وہی انتیس برس کی آزمائش؟ مسیحا کے حواریوں نے ڈالی ---------- نبیٔ آل عمرانی ؑ کے صدقے محمدؐپاک لاثانی کے صدقے ---------- اِس ادنیٰ اُمتی کو بھی ملی ہے وہی انتیس برس کی آزمائش ---------- الٰہی شکر تونے صبر بخشا الٰہی شکر تونے اجر بخشا ---------- | مجھے وہ اہلیہ تونے عطاکی مری اُجڑی ہوئی دلّی بسا دی ---------- سری سحرو یقیناًجنتی ہے تن ِ مردہ کو جنبش جس نے دی ہے ---------- سری حدِّ جنوں اللہ اللہ اسی میں جانیاء نصرٌ من اللہ ---------- اسی نصرٌ من اللہ سے ملا ہے کہ سال ِ نو میں جاگا حوصلہ ہے ---------- کروں گا نوکری اللہ میاں کی غلامی میں بنی ٔ انس و جاں کی ---------- نظامی سلسلہ زندہ رہے گا اگر ہاتھ کارندہ رہے گا الٰہی تابود خورشید و ماہی چراغ چشتیاں را روشنائی |











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔