Tuesday, November 1, 2022

خاموشی میں مراقبہ نہ کریں

0 Comments



شیخ سید نورجان میراحمدی نقشبندی (ق) کا .

29 فروری 2020 بروز ہفتہ کا خطاب۔

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
اَلَّھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیَّدِنَا محَمَّدٍ ﷺ وَعَلَی آلِ سَیَّدِنَا محَمَّدٍ ﷺ

خاموشی میں مراقبہ نہ کریں۔ ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جس سے اپنی حقیقت کو کھولئے:

انشاء اللہ ہمیشہ اپنے لئے ایک یاد دہانی ہے کہ تفکر اور مراقبہ، کہ ہم نے کسی سے ایک کہانی سُنی کہ ایک شخص آیا اُس نے یہ پوچھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ کہا ، “مراقبہ (کے لئے)” اور وہ بہت ناراض ہوا۔ اس نے کہا ، ”مراقبہ؟ یہی آخری کام ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی آپ مراقبہ کریں گے آپ پاگل ہوجائیں گے۔” آہ ، یہ اس پر منحصر ہے کہ کون تعلیم دے رہا ہے اور (تعلیم دینے کا) کیا طریقہ ہے۔ کہ ہر ایک جماعت یا گروہ کے پاس اپنی ایک الگ سمجھ ہے اور تصوف میں اسلام کا روحانی بازو اس بات کی نبوی تفہیم سے آتا ہے جسے وہ تفکر کہتے ہیں۔ یعنی رکنا اور غور کرنا، اور جو ہمارے لئے ایک نظام بنا کر بھیجا گیا ہے اُس کے تحت تفکر کرنا۔ ایک یہ ہے کہ ہم خاموشی میں کبھی مراقبہ نہیں کرتے ۔ خاموشی ایک زبردست خطرہ ہے۔ جیسے ہی کوئی سب کچھ روک کر خاموشی اختیار کرتا ہے ، تو ہمارا یقین ہے کہ وہاں وسوسے ہوں گے، ایک سرگوشی کرنے والا (موجود ہوگا)۔ چاہے آپ اسے منفی انرجی کہیں ، ہم اسے ہمزاد کہتے ہیں ، یہ ایسی چیز ہے جو آپ سے بات کرنا چاہتی ہے ، یہ آپ کے کان (آپ کی سماعت) چاہتی ہے ، یہ آپ کی توجہ چاہتی ہے۔

لہذا ، اچھے خیال اور برے خیال کے درمیان ایک تنازعہ موجود ہے۔ جیسے ہی ہم خاموشی اختیار کرتے اور مکمل ناچیز ہوجاتے ہیں تو یہ اس بری توانائی کے لئے ایک مائکروفون کھول دینے جیسا سے۔ کیونکہ ہم خاموش ہو کر جب بیٹھتے ہیں تو وہ (بُری انرجی کہتی ہے کہ) اوہ میرے خدا! یہ تو لاجواب ہے ، اب ایک اسپیکر میرے بولنے کے لئے منتظر ہے ، ایک کھلا مائک۔ اور اس کے بعد وہ کیا کرتا ہے، بات کرنا ، بات کرنا ، بات کرنا ، بولنا اور پھر (نتیجتاً بندہ کیا کرتا ہے) غیر ضروری تجزیہ، زندگی میں کسی بھی ایک ہی چیز کو غیر ضروری سوچنا۔ جن میں سے بیشتر معاملات کےلئے تجزیہ کرنے اور زیادہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ ہم اس وجہ سے خاموشی میں مراقبہ نہیں کرتے ۔ ہم کوئی مسئلہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے اور نہیں کہتے کہ ، “کیوں؟” کون اس کی پرواہ کرتا ہے کہ کیوں ، یہ اہم نہیں ہے کہ “کیوں”۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر ایک مسئلے کا بہت باریکی سے تجزیہ کرنے اور اسے توڑنے کی کوشش نہیں کرتے، اور خاموشی کا خطرہ یہی ہے۔ جیسے ہی لوگوں کو کام میں کوئی مشکل پیش آتی ہے ، وہ خاموشی میں چلے جاتے ہیں اور ایک پُرسکون حالت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر آپ کے پاس جو موجود ہوتا ہے وہ ہے وسوسے پیدا کرتا ہوا سرگوشیاں کرنے والا، جو صرف ہر طرح کی سرگوشی کرتا ہے ، سرگوشی کرتا ہے ، ہر قسم کی مشکل کی سرگوشی کرتا ہے لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ بندہ پریشان ہو جاتا ہے۔ میں تصور کرسکتا ہوں کہ یہ بہت سارے لوگوں کو پاگل کر دیتا ہے ، آپ بس بیٹھ جاتے ہیں اور سارا دن اپنی سرگوشیوں کو سنتے رہتے ہیں۔ ان اولیاء اللہ نے مصروف زندگی میں ہمارے لئے مراقبہ کرنے کی نبوی روایت سے جو کچھ پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ، مصروف وقت میں آواز کے ساتھ مراقبہ کیا جائے ، ایسی آواز موجود ہونی چاہئے جو اس سرگوشی کا مقابلہ کرے۔ لہذا ، میں اس آواز پر غور کرنے اور اسے سننے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں گا لیکن میں جو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس کے بارے میں کچھ سمجھنا چاہتا ہوں۔
پھر پہلا ٹُول آواز ہے کہ میں ایک ایسی آواز چلاؤں جو میرے دل میں محبت کا احساس ، آسانی اور روحانیت کا احساس پیدا کرے، کہ میں محسوس کرنا چاہتا ہوں جیسے میں بارگاہِ الہٰی اور روشنی کے سمندر میں ہوں۔ اس شخص کو جو بھی سمجھ ہو کہ میں اپنے رب کی روشنی کے سمندر میں جانے کے لئے سوال کر رہا ہوں۔ میں صرف مشکلات مجھ سے دور کرنے کی دعا نہیں مانگ رہا بلکہ (یہ سوال بھی کر رہا ہوں کہ) آپ کے فضل و کرم اور آپ کی روشنی اور آپ کی برکات مجھے آراستہ کریں۔ ہم خود کو اس سمندر میں چھ سمتوں سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک روشنی ، ہمارے دائیں طرف روشنی ، ہمارے بائیں طرف ، ہمارے پیچھے ، ہمارے اوپر اور ہمارے نیچے، چھ سمتوں میں بارگاہِ الہی سے ہماری مدد کی جاتی ہے اور ان سمتوں میں سے کسی میں بھی کمی پیدا ہوتی ہے تو ہمارا وجود مشکل میں آجاتا ہے۔ جیسے ہی مجھے سمجھ آجاتی ہے کہ میں روشنی کے سمندر میں جانا چاہتا ہوں اور میں روشنی کے اس سمندر میں مراقبہ کرنا چاہتا ہوں تو آواز کا موجود ہونا ضروری ہے۔ ایک ایسی آواز جو اس راحت کا إحساس دلاتی ہے ، ایک احساس کہ میں اس رحمت کے باغ میں ہوں اور میں لطف اٹھا رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ کسی “صوفی مراقبہ سینٹر” کے دروازے سے گزرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ، “اتنے زور سے ، تم لوگ کیا چَلا رہے ہو ، یہ سب آوازیں کیا چل رہی ہیں؟” ، وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ ہم بہت ہی زیادہ خاموش ہوں گے ، ایک سوئی گِرنے کی آواز بھی نہیں۔ … .نہیں ، یہ سمجھ نہیں تھی ، اس حقیقت تک پہنچنے کا وہ راستہ نہیں تھا جو وہ (اولیاء اللہ) ان کمیونیٹیز (communities) میں اور جہاں بھی وہ جاتے ہیں، بانٹ رہے ہیں۔ وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ایک اندرونی حقیقت ہے۔ وہ ہمیں اس جدوجہد کی تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ اس اندرونی حقیقت کو کیسے حاصل کیا جائے اور یہ خاموشی کے ذریعہ نہیں آتا ، کیونکہ اس دنیا میں کچھ بھی خاموش نہیں ہے۔

وہ آپ کو ایک اشتعال انگیزی کی کیفیت اور شدت کی کیفیت کے ذریعہ یہ چیز سکھاتے ہیں کہ اپنے آپ کو اس بات کی تربیت دیں کہ اپنے دل کو کس طرح مربوط کرنا ہے جب کہ سب کچھ مصروف ہو ، نہ کہ اس وقت کہ جب سب کچھ بند(خاموش) ہو۔ یہ بہت آسان ہے اور (حقیقتاً) ہم کبھی بھی ایسی صورتحال میں نہیں ہوتے۔ تو ، وہ (مثال دیتے ہیں کہ) ان طیاروں کی طرح، کہ جب پائلٹ اپنا اعلیٰ درجے کا لائسنس حاصل کرنے جارہے ہوتے ہیں تو انھیں تربیت دی جاتی ہے کہ ہوا کی بیچ میں ایندھن کیسے بھریں۔ زمین پر ایندھن ڈالنے میں بڑا کام کیا ہے؟ کوئی آتا ہے پائپ ڈال کر گیس ڈال دیتا ہے۔ تو یہ پائلٹ نہیں ہے۔ پائلٹ وہ ہوتا ہے جو یہ کام ہوا میں 20 ہزار فٹ پر کرتا ہے اور وہ گیس کے لئے پائپ کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہذا ، یعنی ہماری زندگی اس بات کے بارے میں ہے کہ زندگی میں مصروف حالات میں کس طرح مراقبہ کریں۔ یہ کیسے سمجھنے کے قابل ہوا جائے کہ کیسے (ہر چیز کو) بند کرنا ہے۔ اس ٹکنالوجی کی ایجاد کے ذریعہ آپ ہیڈ فون لگا سکتے ہیں اور جیسے ہی آپ ہیڈ فون لگاتے ہیں اور آواز سنتے ہیں جو آپ کے لئے اہم ہے تو پھر خود کو امن کی جگہ پر لے جائیں جبکہ پوری دنیا آپ کے چاروں طرف ہنگامہ برپا کر رہی ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ طوفان کے مرکز میں ایک سکون ہوتا ہے اور یہی وہ امن ہے جو آپ کو بنانا ہے ، یہ آپ کے پاس نہیں آنے والا ۔ آپ جانتے ہیں کہ امن کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں آپ صرف یہ کہتے ہیں کہ میں امن چاہتا ہوں اور یہ آجائے، امن ایک ایسی چیز ہے جس کے لئے ہمیں جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں وہ آکسیمرون (oxymoron) ہے ، الفاظ آپس میں میل نہیں کھاتے۔ آپ کو حقیقت میں اپنے شعور اور اپنے امن کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی ، یہ کسی کے پاس نہیں آنے والا۔ دنیا اپنے ڈیزائن کے مطابق ہر چیز کو الجھانے اور ہر چیز کو الٹا بنانے کے لئے بنائی گئی ہے۔ تو ، جدوجہد یہ ہے کہ میرا سکون مل جائے ، سلام ، اسلام کیا ہے؟ یہ تسلیم ہے ، یہ جھُک جانا ہے۔ وہ ساری حقیقت یہ ہے کہ وہ انرجی کی اصتلاح میں تعلیم دیتے ہیں ، تمام انبیاء ایک ہی جیسی حقیقت لائے کہ آپ کو آپ کے اندر موجود خدائی مرکز سے جڑنا ہے۔ ہمارے آس پاس کی مصروف دنیا کو کیسے خاموش کریں اور کیسے وہ روشنی لائیں جو اس نور کو پروان چڑھائے جو خدائی قلب میں ہے۔ ایک چھوٹی موم بتی کی طرح خدا نے اپنی ساری مخلوق کے دل میں روشنی ڈالی ہے تو پھر اس نور کو کیسے پروان چڑھایا جائے اور کیسے اسکو سنبھالا جائے۔ اس روشنی کو لیں اور اس طرح سے تصور کرکے عمل کریں کہ جب آپ کو کیمپنگ سکھائی جاتی ہے تو آپ کو ایک چھوٹا سا شعلہ دیا جاتا ہے اور آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ آپ کو واقعی اس کا بہت خیال رکھنا ہوگا بصورتِ دیگر ہوا اسے بجھا دے گی۔
ہماری زندگی ایسی ہی ہے ، ہمارے سارے برے اعمال اور خراب کردار روشنی کے شعلے ، دل کے اندر ایمان کے شعلہ کو بجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لہذا ، جب وہ (اولیاء اللہ) آپ کو مراقبہ کرنا سکھاتے ہیں تو ، مراقبہ کا پہلا اصول یہ ہے کہ مجھے آواز کو چلانا ہوگا ، مجھے اپنے پورے ماحول کو اپنے امن کے لئے مرتب کرنا ہوگا ، آواز ہی میرا امن ہے، میرے کانوں کی ایک حقیقت ہے۔ جب میں یہ آواز سنتا ہوں تو میرے کان کھُلنے لگتے ہیں اور میری روح کی انرجی جذب ہونے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔ تو ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آواز آپ کو پر امن محسوس ہوتی ہے وہ پرامن کیوں ہے؟ کیونکہ انرجی کی حقیقت یہ ہے کہ یہ حقیقت میں روح کو چھو رہی ہوتی ہے اور روح ایک روشنی اور انرجی ہے۔ اب ہر چیز کو ایک انرجی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ کا وجود ایک شکل ہے ، آپ کا وجود اس کے ایٹموں سے مل کر بنا ہے جو ایک روشنی ہیں۔ روشنی تقسیم ہوتے ہوئے ایک آواز اور توانائی بن جاتی ہے۔ تو ، پھر یہ توانائی جو مجھے پُرسکون لگتی ہے وہ پُرسکون کیوں ہے؟ کیونکہ یہ میرے کان سے ٹکراتی ہے اور میری روح اور میرے دل میں داخل ہوجاتی ہے اور اس سے مجھے امن اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اگر میں اس حقیقت کو سمجھ سکوں تو پھر میں بیٹھتا ہوں اور میں نے آواز چالو کی اور میں نے ایک ماحول مرتب کیا جس سے میں روشنی کا ایک سمندر مانگ رہا ہوں۔ میں اپنے مسائل کا تجزیہ کرنے اور اپنے تمام مسائل کے جوابات لینے کے لئے نہیں سوال کر رہا، میں صرف آپ کے روشنی کے سمندروں میں داخل ہونے کے لئے سوال کر رہا ہوں۔ کچھ نہیں دیکھنا چاہتا لیکن میں روشنی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں اور میں توانائی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ کہ جیسے ہی وہ آوازیں چلانا شروع کردیں اور وہ آوازیں چلائیں جو ان کے دل کے لئے اہم ہیں تو یہ داخل ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اس کی وائبریشن (vibration) کان میں داخل ہوتی ہے اور دل کو حرکت دینے لگتی ہے، دل کو حرکت دیتی ہے، اور اگر وہ الفاظ سے واقف ہیں یا وہ قرآن سے واقف ہیں ، وہ درود سے واقف ہیں ، اگر وہ کلاسیکی آواز سے واقف ہوں ؛ بندہ جو (آواز) بھی چلانا چاہے ، تو وہ اس آواز سے واقفیت محسوس کرتے ہیں اور اسی وجہ سے نبی پاک (ص) کی قوم سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ہے ، ہم سنتے ہیں اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ پہلی حقیقت کان ہیں ، اگر کان اطاعت گزار نہیں ہو رہے تو پھر باقی گدھا کہیں نہیں جارہا۔ لہذا ، وہ یہ سبق دے رہے ہیں کہ کانوں پر سب سے اہم تالا ہے۔ میں امن کا احساس تلاش کرنے کے لئے اپنے کانوں کو کس طرح مطیع کرنے جا رہا ہوں؟ صرف اس امن کے احساس کے ذریعے ہی مجھے اس سارے طوفان اور افراتفری کے درمیان سلامتی کا احساس مل سکتا ہے کیونکہ لوگ بہت پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ بے چین رہتے ہیں کیونکہ ہم آہنگی ان کے دل میں نہیں پیدا ہو رہی ہوتی اور آپ کا دل رابطہ نہیں بنا پا رہا ہوتا۔ گویا آپ کسی زبردست طوفان سے دوچار ہو رہے ہیں ، آپ کے پاس جی پی ایس نہیں ہے ، آپ کے پاس کوئی ہیڈلائٹ نہیں ہے ، یقینا آپ موت سے خوفزدہ ہیں۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ کسی بھی لمحے آپ کسی اور کار سے ٹکرا جائیں گے اور چوٹی سے گر جائیں گے۔ لہذا مراقبہ کا پورا مقصد اندرونی حقیقت کو روشن کرنا تھا۔
جیسے ہی میں دن میں پانچ ، چھ منٹ بیٹھتا ہوں ، اب آپ طب میں بھی (یہ دیکھ سکتے ہیں) کہ یہ (مراقبہ کا عمل) قبول کرلیا گیا ہے اور وہ کوسٹکو میں ہائی بلڈ پریشر کے لئے ایک پیکیج فروخت کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو آواز کے ذریعے ہائی بلڈ پریشر کو کم سکے۔ انھوں نے سمجھ لیا ہے کہ اگر آپ ہیڈ فون لگاتے ہیں تو آپ کو ایک خاص آواز سنائی دیتی ہے اور وہ آپ کو اس کلاسیکی موسیقی کی تال یا اس لَے کے مطابق سانس لینے کو کہتے ہیں ، کیوں؟ اپنی سانسوں پر قابو پانے کے لئے اپنے آپ کو پرسکون کرنے کےلئے۔ اس آواز کو سنیں ، اس آواز کی وابریشن کو اپنی سانس کی رفتار کے ساتھ ملنے دیں، اور وہ آواز بندے کو تربیت دیتی ہے کہ سانس کیسے لینا ہے ، کس طرح خود کو ڈھیلا چھوڑنا ہے ، مراقبہ کیسے کرنا ہے، ہائی بلڈ پریشر سے زیادہ طاقتور یہ چیز ہے کہ اس نور کو دل میں کیسے لایا جائے؟ کہ جیسے ہی میں مراقبہ کرنا شروع کروں ، میں خود کو روشنی کی دنیا میں دیکھوں۔ میں ان تمام پریشانیوں کے بارے میں نہیں سوال کر رہا کہ وہ کیوں درپیش ہیں اور مجھے ہر چیز کا حل فراہم کیجئے۔ میں اپنے رب سے سوال کر رہا ہوں کہ براہ کرم صرف اپنی روشنی اور اپنی انرجی بھیجیں اور پھر جو آواز آپ نے چلائی ہوئی ہوتی ہے وہ کان میں داخل ہونے لگتی ہے اور یہ اتنی تیز ہونی چاہئے کہ آپ کو سرگوشی سنائی نہ دے۔ گویا آپ آواز کے اندر گم ہو جائیں، یہ نہیں کہ آپ کو بہت کم آواز آرہی ہے اور آپ اب بھی سرگوشی کی آواز سن سکتے ہیں۔ آواز میں گم ہوجائیں جیسے آپ کی روح آواز میں داخل رہی ہو۔ آپ آواز میں گھوم رہے ہیں۔ جو تلاوت ہورہی ہے آپ اس کی وائبریشن کو محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر ذرا تصور کیجئے کہ درود و صلوات اور قرآن (کی تلاوت کا کیا اثر ہوگا) کہ جب وہ (اس آواز میں) مراقبہ کرتے ہیں کہ ان کی روح آواز میں اور اس کی وائبریشن میں داخل ہوجاتی ہے جس کی تلاوت کی جارہی ہے۔ اور وہ اپنی روح کی سطح پر سیکھتے ہیں، اپنی عقل کی سطح پر نہیں ، اپنے دماغ کی سطح پر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ روشنی کی دنیا کو کھولنا شروع کرتے ہیں تو آپ سیکھتے ہیں کہ سبھی علوم روشنی کے ذریعہ پہنچائے جاتے ہیں ، سب سے زیادہ طاقتور خفیہ کردہ (encrypted) حقیقت روشنی کے ذریعے (ترسیل) ہوتی ہے۔ آپ شیخ کے ساتھ ایسے نہ بیٹھیں (کہ جس میں آپ ایسے) کہیں کہ “یہ راز ہے” ، “ٹھیک ہے آپ کا شکریہ”۔ “اوہ ، یہ دوسرا راز ہے” ، “ٹھیک ہے آپ کا شکریہ” اساتذہ کی بارگاہ میں ہمیں اپنے دماغ سے تربیت نہیں دی گئی تھی بلکہ انہوں نے ہمیں اپنے دل سے رابطہ قائم کرنے کی تعلیم فرمائی تھی۔
جیسے ہی آپ اپنے دل کو مربوط کرنے اور مراقبہ کرنے ، تفکر کرنے ، سانس لینے (کی مشق میں)، روشنی کے اس سمندر کو، محبتِ الہٰی رکھنے والوں کی مجالس میں داخل ہوکر محسوس کرنے میں مہارت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ ایک بار پھر یہ تصور کچھ اور مضبوط اور اونچا ہو جاتا ہے کہ جب آپ خود مراقبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ پر منفی توانائیوں کی بمباری ہونے لگتی ہے۔ اور جب آپ بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سکون کا احساس حاصل کرنے کے لئے رابطہ قائم کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ آواز کو بھی چلا لیتے ہیں، تو پہلے پہل بہت ساری منفیت لگاتار آپ کے دل کی طرف آنے لگتی ہے کہ اُٹھ جاؤ، اُٹھ جاؤ، اُٹھ جاؤ، آپ کو (فلاں کام) کرنا ہے۔ اگرچہ وہ (شیطان) کان سے بات نہیں کرسکتا تو وہ لاشعور کے ذریعے آپ کو آگاہی دینے لگتا ہے کہ آپ کو کچھ کام کرنے ہیں ، آپ کو ای میل کرنی ہے ، آپ کو کھانا کھانا ہے، ہر چیز۔ تاکہ آپ اس حقیقت کو سامنے لانے کے لئے جو دل کے اندر موجود ہے جو آپ باہر لانا چاہتے ہیں، (مراقبہ کےلئے) نہ بیٹھیں اور روشنی کی دنیا سے رابطہ نہ قائم کرسکیں۔ لہذا ، نہ صرف یہ سیکھنا ہے کہ میں کس طرح مراقبہ کروں، کس طرح تفکر کروں ، ہر چیز کو کس طرح بند کروں ، خود کو کس طرح روشنی کی اس دنیا میں دیکھوں ، وہ صلوات چلاؤں جو میرے کانوں میں اونچی آواز سے پڑ رہی ہیں ، یہ خوبصورت آوازیں جو میرے کانوں میں آتی ہیں اور خود کو محسوس کروں کہ میں اس سانس میں اس انرجی میں کھو گیا ہوں، اور پانچ ، چھ منٹ (کےلئے مراقبہ میں بیٹھوں) اگر وہ شخص مبتدی (beginner) ہے، کہ اے میرے رب مجھے اس انرجی میں سانس لینے دے اور میری ساری برائی کو باہر نکال دے۔ تو سانس لیں اور (اس منفیت کو) باہر نکال دیں۔ سانس لیں اور ہر بری چیز کو باہر نکال دیں۔ (اس طرح سے) آپ روح کی روشنی کو فروغ دے رہے ہیں اور یہ روح کی غذا بن جاتی ہے۔ جسم کے لئے کھانا ہے اور روح کے لئے بھی غذا ہوتی ہے۔ آپ جتنا چاہیں اپنے جسم کو کھانا کھلا سکتے ہیں لیکن یہ روح کو کچھ بھی نہیں دے رہا۔
روح ایک توانائی ہے اور اسے انرجی اور رزق کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے ہی آپ سانس لیتے ہی ایک زبردست توانائی آنے لگتی ہے۔ تو آپ تھوڑا سا بیٹھ جائیں اور مستقل مزاج رہیں، مستقل مزاج رہیں، مستقل مزاج رہیں کیونکہ خدا کو مستقل مزاجی چاہئے۔ ڈرائیو تھرُو (Drive-Thru) کی طرح کچھ نہیں دیا جائے گا اور پانچ سیکنڈ میں نے یہ کیا ، کل اِس نے کام نہیں کیا لہٰذا میں اسے چھوڑ رہا ہوں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم کوشش کرتے رہیں ، ہر دن صرف ایک مختصر وقت کی کوشش کرتے رہیں۔ بس سانس لینا ، سانس لینا ، اس روشنی کو محسوس کرنا ، اس انرجی کے آنے کے لئے سوال کرنا اور پھر اپنی سانس میں انرجی کو محسوس کرنا شروع کردیں۔ آپ اُس انرجی کو آتے ہوئے محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں ، آپ اُس آنے والی روشنی کو محسوس کرنے لگتے ہیں جو آپ کی روح میں آرہی ہے اور اب آپ اس حقیقت کو روشن کررہے ہیں۔ یہ چھوٹا سا شعلہ کہ گویا آپ اس کی پرورش کررہے ہیں اور یہ اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ جب یہ روشنی مستحکم ہوتی ہے تو اضطراب کم ہوجاتا ہے اور مشاہدہ بڑھنے لگتا ہے۔ کیونکہ جب وہ اپنے دل کو روشن کرتے ہیں تو ایک اندرونی روشنی (پیدا) ہوتی ہے، بیرونی نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اندھیروں اور الجھنوں کے ذریعے ان کے دل میں ایک بیرونی روشنی ہوتی ہے۔ اپنے کے دل کی اندرونی حقیقت کے ذریعے وہ سرنگ کے اختتام پر موجود روشنی کو دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے نقاط (coordinates) کو سمجھ رہے ہوتے ہیں، ان کے پاس بالکل وہی معلومات آرہی ہوتی ہیں جو ہو رہا ہوتا ہے، ڈرنے کی کوئی بات نہیں رہتی، فکر والی کوئی بات نہیں رہتی۔ کیونکہ ایک نور روشن ہو چکا ہوتا ہے جو تمام خوف اور شکوک و شبہات کو دور کر دیتا ہے۔ اور اسی لئے اللہ (عزوجل) فرماتا ہے کہ میرے اولیاء کو نہ خوف ہے اور نہ غم ہے۔
أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
دیکھو! بے شک اللہ عزوجل کے دوستوں پر نہ تو خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ [سورہ یونس: 62]

انہیں خوف نہیں ہے اور وہ غم نہیں کرتے جس حد تک آپ سمجھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں۔ ان کا غم دراصل ایک افسوس ہے کہ وہ اِس سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے تھے لیکن اُنہیں کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ اللہ (عزوجل) بھیج رہا ہے ،خُدا دل میں روشنی بھیج رہا ہے ، دل میں ہم آہنگی بھیج رہا ہے ، تمام حقائق کی خفیہ کاری (encryption) کو ان کے دل میں بھیج رہا ہے اور اس سے ان کی حقیقت کی پرورش ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پریشانی ختم ہونے لگتی ہی ، اداسی ختم ہونے لگتی ہے، افسردگی ختم ہونے لگتی ہے۔ روشنی دل میں آتی ہے اور ہر چیز کو روشن کرنے لگتی ہے۔ اور اُن کو عطا کر دی جاتی ہے، جب زیادہ سے زیادہ روشنی آتی ہے تو روشنی کی فراوانی انہیں دانائی دینا شروع کردیتی ہے ، اُن علوم کی طرح نہیں جو اسکول کے پروفیسر دیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں روشنی کی دنیا کی تعلیم دی گئی تھی ایک خفیہ کردہ روشنی کے ذریعہ اور لوگوں کو (سائینسدانوں کو) اب معلوم ہوا ہے کہ خفیہ کاری کی اعلی ترین شکل روشنی ہے۔ لہذا ، فائبر آپٹکس اور وہ سب کچھ جو وہ روشنی کی دنیا کے بارے میں پڑھا رہے ہیں یہ وہی حقیقت تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل ، خدا جو روشنی میں ڈال سکتا ہے اور یہ روشنی جو آپ کے دل میں ڈالتی ہے وہ (علوم کے) خزانے ابتداء سے لے کر آخر تک کی مخلوق کے علم سے پرے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے لئے آپ کتنا پڑھ سکتے ہیں؟ آپ کتنی کتابیں ممکنہ طور پر پڑھ سکتے ہیں؟ وہ لوگ جو اس راستے کے ذریعے (علم) حاصل کرتے ہیں ان کے پاس کتابوں کی دیوار موجود ہوتی ہے اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں کہ میں نے یہ ساری کتابیں پڑھی ہیں لیکن ایک گھنٹہ کا حقیقی تفکر (کے ذریعے) جو خدا آپ کے دل میں روشنی ڈال سکتا ہے ، یہ اس طرح کی دس ہزار دیواروں کے برابر ہے۔ روشنی کی دنیا سے جو کچھ آسکتا ہے اس کے لیول کو سمجھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ لہذا ، پھر جب ہم مراقبہ کو سمجھ گئے ، اور میں مراقبہ کرنے جا رہا ہوں ، میں تفکر کرنے جا رہا ہوں تو پھر وہ سمجھنا شروع کرتے ہیں کہ، “ لیکن شیخ یہاں بہت زیادہ منفیت ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے میں کسی طوفان کے وسط میں رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور کہتا ہوں ، ہاں ، یہ ٹھیک ہے۔” جیسے ہی آپ کو یہ سمجھ آتی ہے کہ آپ میں خود کو ترقی دینے کی طاقت نہیں ہے تو آپ خدائی روشنی کی مجالس کو تلاش کرتے ہیں کہ وہ ہاٹ اسپاٹ (hotspot) کی مانند ہوتی ہیں۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا سگنل (signal) اتنا مضبوط نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا معاہدہ اتنا اچھا نہیں تھا، اور آپ اپنے سگنل کو اپنے آلے پر نہیں لا سکتے۔ یہ سستا نہیں آتا اور یہ آسان نہیں ہوتا ۔
خیالی دنیا میں ایک سگنل ہوتا ہے جہاں لوگ سوچتے ہیں کہ وہ جڑ رہے ہیں لیکن (دراصل) ان کا صرف دماغ جڑ رہا ہوتا ہے اور وہ اپنے سر میں ایک کھُجلی سی محسوس کرنے لگتے ہیں تو یہ وہ توانائی نہیں ہے جس کی ہم بات کر رہے ہیں ، ہم ایسی توانائی کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اندر آتی ہے روح اور دل میں. سر کی کھُجلی نہیں ، یہ ایک مختلف فریکوئنسی (frequency) ہے کہ وہ محض ہوا سے اٹھاسکتے ہیں، لہذا وہ یہ سکھانا شروع کرتے ہیں کہ اگر میں اس حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہوں تو میں حقیقت کے ان آقاؤں کو کیوں ڈھونڈتا ہوں؟ کیوں کہ ان کی مجالس ہاٹ سپاٹ کی طرح ہیں ، اگر سمجھا جائے تو وہ پوری دھرتی کے لئے ایک ہاٹ سپاٹ کی طرح ہیں اور ان کی موجودگی کے ذریعہ انہیں مرکزیت (centralized) دی جاتی ہے۔ جیسے ہی وہ اپنے وصول کنندگان (receiver) کو چالو کرتے ہیں ، جیسے ہی وہ اپنے دل کو چالو کرتے ہیں ہر شخص لاگ آن (login) ہوسکتا ہے ، کیونکہ اُن کی دل کے بیچ میں خدا ہوتا ہے: بے شک سچ (حق) آگیا ہے اور حق باطل کو ختم کردیتا ہے۔ حق اور باطل ایک ہی ماحول میں داخل نہیں ہوتے اور باطل فطرتاً فنا ہونے والا ہے-
وَقُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَزَهَقَ ٱلْبَٰطِلُ ۚ إِنَّ ٱلْبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقًا
اور فرما دیجئے: “حق (اب) آگیا ، اور جھوٹ فنا ہوگیا: کیونکہ باطل (اس کی فطرت سے) فنا ہوجانے کا پابند ہے۔” [سورہ اسراء: 81[
‘قل جاء الحق’ ، لہذا جب حق اور حقیقتوں کی یہ روشنی آتی ہے تو اس کی موجودگی میں کوئی منفیت نہیں ہوگی جو اس جگہ موجود رہے کیونکہ وہ جل جائے گی۔ لہذا ، وہ لوگوں کی تمام منفیت کو دور کرنا شروع کردیتا ہے تاکہ وہ حقیقی ہاٹ سپاٹ میں داخل ہوجائیں۔ اور جیسے ہی وہ اس ہاٹ سپاٹ میں بیٹھتے ہیں ، انھیں تربیت دی جاتی ہے کہ کس طرح مراقبہ اور تفکر کریں۔ بالکل اسی طرح جس طرح سے میں آپ کے روشنی کے سمندروں میں رہنا چاہتا ہوں۔ مجھے ان توانائیاں سے عطا کیجئے ، ان محبت کرنے والوں سے جو مخلص ہیں اور وہ اس طریقے کی حمد کر رہے ہیں جس طرح وہ اپنی محبت کی حمدوثناء کرنا چاہتے ہیں میں اُن کی انرجی سے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کسی چیز کے لئے ان کی حمد تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میں ان کی انرجی کو حاصل کرنا چاہتا ہوں تو جب میں ان پرندوں کو دیکھنے کے لئے جاتا ہوں، جب آپ پرندوں کو دیکھنے کے لئے جاتے ہو تو آپ پرندوں کو نہیں چُپ کرواتے اور نہیں کہتے کہ آپ اس طرح کیوں گا رہے ہیں۔ آپ وہ پرندہ ڈھونڈیں جسے سننا آپ پسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ بُلبُل کو سننا پسند کرتے ہیں ، تلاوت کے یہ سب مختلف طریقے ہیں۔ جب یہ پرندے گاتے ہیں تو لوگوں کو زبردست خوشی ہوتی ہے۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھتے ہیں اور پرندوں کی خوبصورت چہچہاہٹ سے وہ بہت مسحُور ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہوں نے سمجھ لیا تھا کہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے؟ نہیں ، بلکہ وہ اس کی محبت کو محسوس کرلیتے ہیں، وہ بارگاہِ الہٰی کے لئے اس کی محبت کو محسوس کرلیتے ہیں کیونکہ پرندہ ہمارے سمجھنے کے لئے ایک ایسی مخلوق ہے جس کو خدا کے لئے بے حد پیار ہے کہ وہ اڑ سکتا ہے ، گدھا نہیں اُڑ سکتا زرافہ نہیں اُڑسکتا ایک پرندہ کہ جس کی محبت اس کو اڑنے کی طاقت دیتی ہے وہ یہ تک نہیں سوچتا کہ خدا اس کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کی بے پناہ محبت کے نتیجے میں لوگوں کو محض اس کا گانا سننے میں ہی بے حد خوشی محسوس کرتے ہے بالکل ایک آرکسٹرا (orchestra) کی طرح۔ اور تمام پرندے مختلف گانے گاتے ہیں اور ہر پرندے کی ایک الگ حقیقت ہے۔ مولانا شیخ (ق) نے تعلیم فرمائی کہ فاختہ ، امن کا پرندہ ، سفید فاختہ کی آواز، یہ “کوہوکو” کی آواز، یہ واقعتا ہمیں خدا کی تعریف کرنے کے لئے کہہ رہا ہوتا ہے کہ “ اگر آپ مجھے یاد کرتے ہیں تو ، میں آپ کو یاد کروں گا ایک اعلی انجمن میں۔”
فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ
پَس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا. میرے شکرگزار بنو ، اور کُفر نہ کرنا۔ [سورہ البقرہ: 152[
تو ، خدا نے ان تمام مخلوقات کی تعریف کے طور پر جو کچھ دیا ہے۔ اگر ہمارے پاس روحانی کان ہوتے یہ سننے کے لئے کہ وہ کس طرح کی حمدوثناء بیان کر رہے ہیں۔ لیکن نقطہ یہ ہے کہ ہم محبت کے حلقوں کی طرف آتے ہیں کہ اپنی حمدوثناء میں یہ انرجیز پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور وہ ایک بے حد محبت پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ کہ وہ محبت جو برائی کو دور دھکیل دیتی ہے تاکہ ہم کچھ گھنٹوں کے لئے ایک ہاٹ سپاٹ حاصل کرسکیں۔ جیسے ہی ہم اس ہاٹ سپاٹ میں بیٹھتے ہیں ، ہم اپنی روشنی تعمیر کرنے لگتے ہیں، کنکشن بنانے لگتے ہیں ، اس رابطہ کو بنانے لگتے ہیں ، اس روشنی کو دل میں داخل کرنے لگتے ہیں۔ مجھے روشنی سے پُر کریں ، مجھے اس توانائی سے پُر کر دیں ، مجھے اس حقیقت سے پُر کریں۔ اور پھر اگلے کچھ دن گھر جاکر کوشش کرتے رہیں ، اس وقت تک مراقبہ کی کوشش کرتے رہیں جب تک کہ آپ اس تعلق کو قائم نہ کرسکیں ، اس حقیقت کو استوار نہ کرسکیں اور دل کے اندر اس شعلے کو استوار نہ کرلیں۔ ہر بار جب آپ مرشد سے ملتے ہیں تو آپ کا دل مضبوط اور مضبوط تر ہوتا جاتا ہے جب تک کہ آپ ان کو محسوس کرنے لگیں ، انھیں ہر وقت محسوس کریں کہ آپ ان کے چینل پر بندھے ہوئے ہیں ، آپ ان کا سگنل ہر وقت اپنے وجود تک پہنچتا ہوا محسوس کرتے ہیں اور یہ بات أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُم سے ہے۔
– يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُم
اے ایمان والو! اللہ عزوجل کی اطاعت کرو ، اور رسول (ص) کی اطاعت کرو ، اور ان لوگوں کی بھی اطاعت کرو جو تم میں سے اختیارات رکھتے ہیں۔ [سورہ نساء: 59[

اللہ (عزوجل) کہہ رہا ہے کہ خدا کی اطاعت کرو ، رسولوں کی اطاعت کرو اور اختیار والوں کی اطاعت کرو ، کیا اطاعت کرو؟ روحانی رابطوں اور روشنی کے ذریعہ جو وہ اپنے دل سے وائی فائی (WiFi ) کی طرح بھیجتے ہیں۔ لہٰذا جیسے ہی ہم جڑتے ہیں ، ہم جڑتے ہیں اور ہم رابطہ قائم کرتے ہیں تو رابطہ اتنا مضبوط ہوجاتا ہے کہ یہ ہر لمحے رواں دواں (Live-Stream) رہتا ہے ، یہ توانائی ہر لمحے بہتی رہتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا انہوں نے ہمارے لئے ارادہ کیا کہ جب ہم اس دھرتی پر پہنچے یعنی کہ اپنی روحانی حقیقت کی تعمیر کرنا۔ لیکن لوگ صرف زندگی کے مادی پہلو میں گم ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ ہر قسم کی مشکل کی وجہ سے افسردگی اور بے چینی اور بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جب ہم یہ سب مختلف چیزیں دیکھتے ہیں جو زمین پر کُھل رہی ہیں تو ، میں تصور کرسکتا ہوں کہ بہت سے لوگوں پریشان ہو جائیں گے، بہت سے لوگوں کو مشکل سے دو چار ہونا ہو گا ، کہ کیا کِیا جائے ، اس کو فلو ہے ، اس کو زکام ہے ، یہ بندہ اپنا ناک صاف کر رہا ہے ، اے میرے خدا! میں اپنے چہرے پر ماسک (mask) ڈال لوں گا۔ یہ سب گھبراہٹ کس لئے؟ آپ بیٹھیں اور آپ مراقبہ کریں اور روشنی آتی ہے ، انرجی دل میں آرہی ہوتی ہے۔ کسی چیز سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کے دل میں ہم آہنگی پیدا ہورہی ہوتی ہے اور یہ روشنی آپ کے دل میں آرہی ہوتی ہے۔ مگر آپ کے پاس ایسا کچھ نہیں آسکتا جو آپ کے لئے نہیں لکھا گیا اور کچھ بھی نہیں آپ کی مدد کرسکتا جو آپ کے لئے نہیں لکھا گیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں ملبوس کرے، ہمیں برکت عطا فرمائے ، اللہ (عزوجل) ہمیں آراستہ کرے اور زیادہ سے زیادہ افہام وتفہیم سے نوازے۔ جتنا ہم اپنا پیالہ خالی کرتے جائیں گے کہ یا ربی ہمارے پیالے کو اپنے انوار اور اپنی عطاؤںسے بھر دے۔ انشاء اللہ.
بِحُرمَةِ مُحَمَّد اَلمُصطفٰی وَ بِسِرّ سُورَۃ الفَاتِحَہ۔
مُحَمَّد اَلمُصطفٰی ﷺ کے تَقَدُّس اور سورۃ الفاتحہ کے راز کے ساتھ (اِس اقتباس کا اختتام کِیا جاتا ہے)۔

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔