مراقبہ تصور شیخ
خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے
ارشاد فرمایا کہ
تصوّر شیخ کا مراقبہ اس امر کی کوشش ہے کہ کسی ایک ہستی کو مرکزیّت بنا کر بار بار دماغ کی اسکرین پر منتقل کیا جائے جتنا زیادہ ایک خیال دماغ کی اسکرین پر منعکس ہوتا ہے اسی مناسبت سے دماغ میں ایک پیٹرن بن جاتا ہے اور یہی پیٹرن تصوّف کی اصطلاح میں ‘‘طرزِ فکر‘‘ ہے۔
ہم جب روحانی استاد یا شیخ کا تصوّر کرتے ہیں تو ازلی قانون کے مطابق شیخ کے اندر کام کرنے والی اللہﷻ کی صفات کا علم بار بار ہمارے دماغ کے اوپر وارِد ہوتا ہے اور جیسے جیسے شیخ کے اندر کام کرنے والی روشنیاں سالک کے اندر منتقل ہوتی ہیں سالک کا ذہن شیخ کی روشنیوں سے منور ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ شیخ اور مرید ایک نقطے پر قائم ہو جاتے ہیں۔ تصوّف میں اسی حالت کو نسبت کہا جاتا ہے۔
روحانیت میں نسبت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ محبت اور عشق ہے۔ سالک کے اندر جس حد تک محبت اور عشق کی لہریں موجزن ہوتی ہیں اسی مناسبت سے اسے شیخ کا ذہن منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ شیخ کے اندر کام کرنے والی روشنیاں جو دراصل اللہﷻ کی تجلّیات ہیں سالک کو منتقل ہو جاتی ہیں۔ سالک ان انوار اور تجلّیات سے متعارف ہو جاتا ہے۔ اس حالت یا کیفیّت کو فنا فی الشیخ کہا جاتا ہے۔
شیخ کی روشنیاں اور شیخ کے اندر کام کرنے والے انوار و تجلّیات شیخ کا اپنا ذاتی وصف نہیں ہے۔ جس طرح ایک سالک اپنی تمام تر توجہ اور ذہنی اِرتکاز کے ساتھ شیخ کے علم اور شیخ کی صفات کو اپنے اندر منتقل کر لیتا ہے۔ اسی طرح شیخ نے اپنی تمام تر توجہ اور ذہنی اِرتکاز کے ساتھ سیدنا حضورﷺ کے علم اور صفات کو اپنے اندر منتقل کیا ہے۔
فنا فی الشیخ کی حالت میں شیخ کے اندر کام کرنے والی وہ صلاحیتیں سالک کے اندر بیدار اور متحرّک ہو جاتی ہیں جن صلاحیتوں کی بنیاد پر شیخ کے اندر سے سیدنا حضورﷺ کی نسبت منتقل ہوتی ہے۔
اعتراف
پیرا سائیکالوجی
خواجہ شمس الدین عظیمی











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔