اللہ ، باہر کی بات نہیں ہے بلکہ اندر کی کہانی ہے ؛
ہم اپنے آپ میں ہی تجھے ڈھونڈتے رہے
تیرے مسافروں کا سفر ، گھر میں کٹ گیا
تو اس کے مسافر ، کہیں دُور پیدل نہیں جاتے کہ ہم اللہ کی تلاش میں جا رہے ہیں ۔
ایک بندہ اللہ کی تلاش میں جا رہا تھا ۔ راستے میں اسے درویش ملا اور پوچھا کہ کدھر چلے ہو ؟کہتا ہے کہ میں اللہ کی تلاش میں جا رہا ہوں ۔ تو وہ درویش بولے کہ پیچھے جس کو چھوڑ آئے ہو وہ کون تھا ؟
اللہ کسی آگے کا نام نہیں ہے ، اللہ پیچھے کا نام بھی نہیں ہے ، جسے آپ چھوڑ آئے ہو وہ بھی اللہ ہی ہے ۔کہتے ہیں کہ جس شہر میں آپ رہتے ہیں ، وہاں بھی اللہ ہے۔ تو اللہ اس شہر میں بھی ہے جہاں آپ رہ رہے ہیں ۔ اور اس شہر کا نام بھی ہے جہاں آپ جا رہے ہیں ۔ بلکہ یہ ساری آپ کے باطن کی بات ہے ۔
۔۔۔۔۔حضرت واصف علی واصف ؒ
( کتاب :۔ گفتگو 10 )











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔