Wednesday, October 19, 2022

شیخ سعدی اور قید

0 Comments

 


شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کچھ عرصہ میرا قیام دمشق میں رہا۔ ایک دفعہ اہلِ دمشق سے تنگ آ کر فلسطین کے بیابانِ قدس میں ترکِ دنیا کر کے بیٹھ رہا۔ وہاں کے عیسائیوں نے مجھے قید کر لیا اور یہودی قیدیوں کے ساتھ طرابلس کی خندق کھودنے پر لگا دیا۔ مدت بعد حلب کے ایک رئیس آدمی کا وہاں سے گزر ہوا جو میرا جاننے والا تھا۔ اس نے مجھے پوچھا کے یہ تو نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے۔ میں نے کہا کچھ نہ پوچھ انسانوں سے تنگ آ کر پہاڑوں اور جنگلوں کی طرف بھاگا کے عبادت کی یکسوئی میسر آئے اور دیکھ لے میرا حال تیرے سامنے ہے۔

رئیس کو میری حالت پر رحم آیا اور اور اس نے دس دینار اد ا کر کے فرنگیوں سے مجھے آزادی دلائی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ حلب لے آیا اور سو دینار مہر پر اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کر دی۔ کچھ عرصہ گزرا تو بیوی نے بدمزاجی اور زبان درازی سے میری زندگی حرام کردی۔ ایک بار اس نے طعنہ دیا کے تو وہی نہیں ہے جسے دس دینار دے کر فرنگیوں سے میرے باپ نے چھڑایا تھا؟ میں نے کہا ہاں وہی ہوں جسے تیرے باپ نے دس دینار دے کر فرنگیوں سے چھڑایا تھا اور سو دینار دے کر تیرے ہاتھ گرفتار کرا دیا۔




0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔