Thursday, July 28, 2022

Khamoshiyan

0 Comments

 خاموشیاں آواز ہیں



خاموشیاں آواز ہیں

تم سننے سے آؤ کبھی

چھوکر تمہیں کھل جائے گی۔

گھر انکو بلاؤ کبھی

بیقرار ہیں بات کرنے کو

کہنے دو انکو زرا..


خاموشیاں.. تیری میری خاموشیاں

خاموشیاں.. لپٹی ہوئی خاموشیاں


کیا اس گلی میں کبھی تیرا جانا ہوا؟

جہاں سے زمانہ کو گزرے زمانہ ہوا

میرا وقت تو وہیں پر ہے تیرا ہوا

بتاؤ تمھیں کیا میرے ساتھ کیا ہوا؟


خاموشیاں ایک ساز ہے

تم دھون کوئی لاؤ زارا

خموشیاں الفاز ہیں۔

کبھی آ گنگنائیں ذرا

بیقرار ہیں بات کرنے کو

کہنے دو انکو زرا.. ہا..


خاموشیاں.. تیری میری خاموشیاں

خاموشیاں.. لپٹی ہوئی خاموشیاں


ندیہ کی پانی بھی خاموشی یہ ہے ۔

کھلی چاندنی میں چھپی لاکھ خاموشیاں

بارش کی بوندوں کی ہوتی کہاں ہے زبان

سلگتے دلوں میں ہے خاموش اٹھتا دھواں


خموشیاں آسمان ہے

تم اُڑنے تو آؤ زارا

خاموشیاں احساس ہے۔

تمہں محسوس ہوتی ہے کیا

بیقرار ہیں بات کرنے کو

کہنے دو انکو ذرا.. ہا..


خاموشیاں.. تیری میری خاموشیاں

خاموشیاں.. لپٹی ہوئی خاموشیاں

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔