"فضل اور رحمة"
"فضل اور رحمة" کی تفسیر سے متعلق صحابہ کرام، تابعین اور علماء امت کے مختلف اقوال ہیں:
بعض علماء نے کہا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے مراد قرآن کا نزول ہی ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت قرآن۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے ہم کو اہل قرآن بنایا۔
حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو خوش ہونا چاہئے اللہ کے فضل سے یعنی قرآن سے اور اللہ کی رحمت سے ‘ یعنی اس بات سے کہ اللہ نے ان کو اہل قرآن میں سے بنایا۔
حضرت ابن عمر نے فرمایا : اللہ کا فضل اسلام ہے اور اللہ کی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے اسلام کو ہمارے دلوں میں محبوب بنا دیا۔
حضرت خالد بن معدان نے فرمایا : اللہ کا فضل اسلام ہے اور اللہ کی رحمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت سنت،
ھو خیر مما یجمعون۔ وہ (یعنی قرآن کا نزول یا اللہ کا فضل و رحمت) اس (دنیوی متاع حقیر) سے بہتر ہے، جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔
صوفیا ء کرام کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ منازل سلوک طے کرنے سے قبل مختلف علوم خصوصا قرآنی علوم سے آراستہ ہو نا لازمی خیال کرتے تھے۔کیونکہ امر واقع یہی ہے کہ علم دین کے بغیر معرفت الہی ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمام صوفیاء کرام،داتا علی ھجویری ہوں یا حضور غوث اعظم،خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ہوں یا خواجہ باقی بااللہ،حضرت مجددالف ثانی ہوں یا حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی ،دور جدید میں حضور امین ملت میرے مالک و آقا جی خواجہ محمد امین نظامی مدظلہٗ العالی ، پیر سیال ہوں یا حضورضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری بھیروی۔سب صوفیاء اولیاء قرآن و حدیث،تصوف و فقہ،تاریخ اور سیرت اور دیگر قرآنی علوم کے جید عالم تھے۔اس تناظر میں اگر صوفیائے کے ملفوظات کا مطالعہ کیا جائے تو انکی ہر بات کے پس منظر میں قرآنی آیات،احادیث رسول اور آثارصحابہ موجود نظر آتے ہیں۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ اپنے وقت کے جید عالم تھے۔تمام مروجہ درسی کتب پر انکو کامل دسترس حاصل تھی۔قدوری،مقامات حریری کے ساتھ کتب حدیث پر انکو عبور حاصل تھا۔حدیث شریف کی ایک کتاب ''مشارق الانوار''آپ نے حفظ کر رکھی تھی۔عقائد کی کتاب ''التمھید فی بیا ن التوحید''سبقا پڑھی،عوارف المعارف کے 6ابواب اپنے شیخ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر سے پڑھے۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ اپنی گفتگو میں قرآن وحدیث،فقہ و تصوف،لغت و ادب کے حوالہ بیان فرماتے۔آپ کے ملفوظات میں جا بجا قرآن کریم کی مختلف آیات کی منفرد تفسیر درج ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علوم قرآن پر نہ صرف دسترس رکھتے تھے بلکہ بعض اوقات آیات کی ایسی وضاحت بیان فرماتے کہ سننے والا حیران رہ جاتا۔
محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کامعاملہ مخلوق کے ساتھ دوطرح کاہے اور مخلوق کا معاملہ آپس میں تین طرح کاہے۔اللہ تعالیٰ کابرتاو مخلوق کے ساتھ عدل کاہوتاہے یا فضل کا،لیکن مخلوق آپس میں عدل کرتی ہے،یا فضل یاپھرظلم۔اگر مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ عدل یافضل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنافضل فرماتاہے اوراگر مخلوق ایک دوسرے پر ظلم کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے عدل فرماتاہے اور جس سے اللہ عدل فرماتاہے اس کو عذاب میں گرفتارکرتاہے چاہے۔
طالب دعا۔
قدمبوس نظامی
خواجہ طہٰ عامر نظامی











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔